حماس ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بعض شقوں پر آمادہ ، تنظیم مذاکرات کے لیے کوشاں
تنظیم نے غزہ کے انتظامات ایک آزاد فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے پر اپنی رضامندی کی تصدیق کی
فلسطینی تنظیم حماس کے اعلان کے مطابق اس نے غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے پر اپنا تحریری جواب ثالثوں یعنی مصر اور قطر کے حوالے کر دیا ہے۔
جمعے کی شام جاری بیان میں حماس نے کہا کہ وہ امریکی صدر کے منصوبے کے کچھ نکات کو قبول کرتی ہے، تاہم بعض امور پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تنظیم نے اس حوالے سے اپنی قیادت سے تفصیلی مشاورت کی، فلسطینی دھڑوں اور جماعتوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کی اور ثالثوں و دوست ممالک سے رابطے کیے تاکہ منصوبے پر ایک ذمے دارانہ موقف تیار کیا جا سکے۔
حماس نے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُن کوششوں کو سراہا جن کا مقصد غزہ کی جنگ کا خاتمہ، قیدیوں کا تبادلہ، فوری امداد کی فراہمی اور غزہ کے قبضے یا آبادی کے جبری انخلا کو روکنا ہے۔
تنظیم نے اعلان کیا کہ وہ امریکی منصوبے میں تجویز کردہ فارمولے کے مطابق تمام اسرائیلی قیدیوں یعنی زندہ اور لاشوں دونوں ... کی رہائی پر آمادہ ہے، بشرطیکہ تبادلے کے لیے زمینی حالات کو مناسب بنایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تنظیم فوری طور پر ثالثوں کے ذریعے تفصیلات طے کرنے کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔
حماس نے یہ بھی کہا کہ وہ عرب و اسلامی حمایت اور فلسطینی قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر غیر جماعتی (ٹکنوکریٹ) فلسطینی شخصیات پر مشتمل ایک عبوری انتظامیہ کے حوالے سے غزہ کی حکومتی انتظامی ذمے داریاں منتقل کرنے پر راضی ہے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق کوئی بھی معاملہ قومی سطح پر متفقہ پالیسی اور متعلقہ بین الاقوامی قوانین و قراردادوں کی بنیاد پر ہی طے کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ تمام معاملات ایک جامع فلسطینی قومی دائرہ عمل میں زیرِ بحث آئیں گے، جس کا حصہ حماس بھی ہو گی اور پوری سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرے گی۔
اس سے پہلے جمعے کے روز صدر ٹرمپ نے حماس کو اتوار کی شام تک کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کی جانب سے پیش کردہ غزہ کے مستقبل کے لیے "آخری موقع کے معاہدے" کو قبول کرے، بصورت دیگر تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف "جہنم بھڑک اٹھے گی"۔
ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق فوری جنگ بندی، حماس کے زیرِ حراست تمام اسرائیلی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینیوں کی رہائی، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک عبوری حکومت کا قیام شامل ہے۔ یہ حکومت ایک بین الاقوامی کمیٹی کی قیادت میں کام کرے گی۔
واضح رہے کہ 20 نکات پر مشتمل یہ منصوبہ قطر اور مصر نے ثالثوں کی حیثیت سے پیر کی رات حماس کو پیش کیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اس پر اپنی منظوری دے دی تھی۔
-
غزہ شہر کا ہر حصہ موت کا گہوارا ہے: یونیسیف
اقوام متحدہ کی طرف سے اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ غزہ شہر سے نقل مکانی پر مجبور ...
مشرق وسطی -
"غزہ میں بچوں اور ماؤں کے لیے اس طرح بدترین حالات کبھی نہیں رہے جتنے آج ہیں"
یونیسیف نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نشانے پر موجود ماؤں اور بچوں کے حوالے ...
مشرق وسطی -
فلوٹیلا سے غزہ جانے کی کوشش پر اسرائیل نے 20 صحافی گرفتار کر لیے، عالمی تنظیم کی مذمت
اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر کے فلسطینیوں کو بھوک سے ہلاک کرنے اور ان کی نسل کشی ...
مشرق وسطی