انروا پر سات اکتوبر کے حملے کو ممکن بنانے کا مقدمہ جج نے خارج کر دیا

فیصلے کے مطابق اقوامِ متحدہ اور ایجنسی کو ایسے مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیویارک کے ایک وفاقی جج نے اس ہفتے وہ مقدمہ خارج کر دیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا نے ایک بلین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی تھی جس سے حماس کا اسرائیل پر مہلک حملہ ممکن ہوا۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج اینالیسا ٹوریس نے کہا کہ انروا کو اقوامِ متحدہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے تحفظ اور اقوامِ متحدہ کو ایسے مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہے۔

اس مقدمے میں ایجنسی کو سات اکتوبر 2023 کے حملے کے لیے جوابدہ قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔

حملے کے بعض متأثرین کے اہلِ خانہ کے دائر کردہ مقدمے میں غیر متعین ہرجانے کا مطالبہ اور انروا اور اس کے سات موجودہ اور سابق سینئر عہدیداروں کو مدعا علیہ نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ انروا نے دوسری چیزوں کے علاوہ اپنے سکولوں اور طبی کلینکوں میں ہتھیار ذخیرہ کرنے اور تعیناتی کے مراکز قائم کرنے کی اجازت دے کر اور حماس کے ارکان کو ملازمت دے کر اس کی مدد کی تھی۔

انروا کے وکلاء نے مقدمے کو "مضحکہ خیز" قرار دیا اور عدالتی دستاویزات میں کہا ہے کہ ایجنسی اقوامِ متحدہ کے "ماتحت ادارے" کے طور پر ذمہ داری سے محفوظ ہے۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ سال دلیل دی تھی کہ اس مقدمے کو خارج کر دینا چاہیے کیونکہ انروا کو استثنیٰ سے تحفظ حاصل ہے اور اس پر مقدمہ نہیں چل سکتا۔ لیکن اپریل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہ مؤقف تبدیل کر دیا اور دلیل دی کہ نہ ایجنسی اور نہ ہی اس کے اہلکار ایسے تحفظ کے حقدار تھے۔

انروا اور مدعیان کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کسی نے جمعہ کو جج کے فیصلے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ فیصلہ منگل کو جاری کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں