غزہ شہر کا ہر حصہ موت کا گہوارا ہے: یونیسیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی طرف سے اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ غزہ شہر سے نقل مکانی پر مجبور کیے جانے والے فلسطینیوں کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ وہ جگہیں بھی جن کو اسرائیلی ریاست کی فوج محفوظ زونز قرار دیتی ہے۔ بلکہ پورا جنوبی غزہ موت کا گہوارہ بن چکا ہے۔

یاد رہے اسرائیلی ریاست کی فوج نے ماہ اگست سے جنگی جارحیت کا تجدیدی سلسلہ تیز کیا ہے تب سے اب تک فلسطینیوں کو جبری طور پر نقل مکانی کا حکم دیا جا رہا ہے۔

'یونیسیف' کے ایک ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنوبی غزہ میں کسی محفوظ زون کے ہونے کا اسرائیلی دعویٰ محض ایک ستم ظریفانہ دعویٰ بن کر رہ گیا ہے۔

ترجمان جیمز ایلڈر نے دیر البلاح سے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ غزہ کے مرکز میں ہے اور اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب بمباری شروع ہوجائے۔ سکول تباہ کر دیے گئے ہیں جو بے گھر فلسطینیوں کے لیے عارضی ہناہ گاہ بن گئے تھے۔ اب یہ عارضی ہناہ گاہیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ خیمے شعلوں کی نذر کیے جا چکے ہیں اور اس کے باوجود بار بار فضاؤں سے بمباری ہوتی ہے۔

اسرائیلی فوج فلسطینیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اس علاقے کو خالی کر دیں اور ان علاقوں میں چلے جائیں جن علاقوں کو فوج اپنے تئیں ہیومینیٹرین ایریاز قرار دیتے ہیں جو المواصی ساحلی قصبے کے نزدیک ہے۔

فوج کا دعویٰ ہے کہ اس ہیومینیٹرین ایریا میں لوگوں کو خوراک بھی ملے گی اور دوائیاں بھی ملیں گی۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے اس سے پہلے جن علاقوں کو محفوظ زون قرار دیا گیا تھا ان پر بار بار بمباری کی گئی ہے اور اس بمباری کی مذمت حماس کی طرف سے بھی بار بار کی جاتی رہی ہے۔

جیمز ایلڈر نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں کمبلوں کی تقسیم کا اتنی بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے کافی ہونا ممکن نہیں ہے۔ جو اپنی ہر طرح کی چیزیں کھو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا جن کو اسرائیلی فوج سیف زون کہتی ہے وہ بھی مقامات مرگ ہیں۔

انہوں نے کہا المواصی بھی اب بہت ہی گنجان آبادی کا حصہ بن گیا ہے کیونکہ اس علاقے میں لاکھوں لوگوں نے نقل مکانی کر لی ہے۔ یہ دنیا کا گنجان ترین علاقہ بن چکا ہے۔

ان کے مطابق یہ قبضہ کرنے والی قوت کا فرض ہے کہ لوگوں کو سیف زون فراہم کرے اور انہیں ان کی تمام بنیادی ضروریات فراہم کرے جن میں خوراک و شیلٹر سب شامل ہیں اور پینے کا پانی بھی اور دوسرا پانی بھی۔ لیکن اس وقت ان چیزوں میں سے کوئی بھی لوگوں کو میسر نہیں ہے۔ بس اس وقت ایک کمزور سی امید جاری ہے کہ ان جگہوں پر اسرائیلی فوج ابھی بمباری نہیں کرے گی۔ اگرچہ پچھلے 18 ماہ کا تجربہ اس سے مختلف ہے کیونکہ اسرائیلی فوج نے درجنوں بار محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں بمباری کی ہے اور ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں