شمالی بھارت کے دارجیلنگ میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، یہ بات علاقے کے ایک قانون ساز نے اتوار کو بتائی۔
تمام رات شدید طوفان مغربی بنگال کی مشرقی ریاست کے پہاڑی ضلع میں 300 ملی میٹر (12 انچ) بارش کا باعث بنا جس سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے اور وسیع پیمانے پر نقصان ہوا۔
پانی کا ریلا پلوں کو توڑ کر سڑکوں پر جمع ہو گیا ہے۔
بھارت کے ایوانِ بالا کے ایک رکن قانون ساز ہرش وردھان شرنگلا نے کہا، "دارجیلنگ کی پہاڑیوں میں گذشتہ رات کے شدید طوفان کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔"
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ "جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہیں۔"
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، "تیز بارش اور تودے گرنے کے باعث دارجیلنگ اور اردگرد کے علاقوں کی صورتِ حال پر ہماری گہری نظر ہے۔"
مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا، "گذشتہ رات چند گھنٹوں میں ہونے والی اچانک زبردست بارش کے ساتھ ساتھ دریا میں بہت زیادہ طغیانی کے باعث کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔"
انہوں نے ایکس پر کہا، "لوہے کے دو پل منہدم ہو گئے ہیں، کئی سڑکوں کو نقصان پہنچا اور ان پر سیلابی پانی کھڑا ہو گیا ہے اور زمین کے وسیع حصے زیر آب آ گئے ہیں۔"
برصغیر میں مون سون کے موسم میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنا ایک عام بات ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ ہونے والی ترقی سے ان کی کثرت، شدت اور اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔