ایران پر عائد امریکی پابندیوں نے مغربی ممالک کے لیے ایرانی تیل کی قیمت ادا کرنا تقریباً ناممکن بنا رکھا ہے، لیکن مغربی عہدیداروں کے مطابق چین نے اس ادائیگی کے لیے ایک خفیہ ترکیب ایجاد کر لی ہے۔
امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” میں انہی مغربی حکام کے حوالے سے شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خفیہ مالیاتی نظام امریکہ کے دو بڑے حریفوں چین اور ایران کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور واشنگٹن کی ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں کو چیلنج بنتا جا رہا ہے، جیسا کہ نے رپورٹ کیا۔
بارٹر سسٹم سے مشابہہ طریقہ کار
تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ نظام “بارٹر” یعنی اشیاء کے تبادلے کے اصول پر کام کرتا ہے، ایرانی تیل چین کو بھیجا جاتا ہے اور بدلے میں سرکاری چینی کمپنیاں ایران میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تعمیر کرتی ہیں۔
عہدیداروں نے مزید بتایا کہ اس نظام میں ایک چینی سرکاری بیمہ کمپنی شامل ہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی برآمدی کریڈٹ ایجنسی قرار دیتی ہے، اس کے علاوہ ایک انتہائی خفیہ چینی مالیاتی ادارہ بھی ہے جس کا نام کسی سرکاری یا عوامی بینک یا مالیاتی فہرست میں موجود نہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ نظام بین الاقوامی بینکاری نظام کو بائی پاس کرتا ہے اور ایران کی معیشت کے لیے جو پابندیوں کے دباؤ میں ہے۔ اس کے لیے زندگی کی ایک نئی لہر بن گیا ہے۔
کچھ حکام کے مطابق گزشتہ سال اس خفیہ مالیاتی راستے سے تقریباً 8 اعشاریہ 4 ارب ڈالر کی تیل کی ادائیگیاں ہوئیں، جو ایران میں بڑے چینی تعمیراتی منصوبوں کے لیے استعمال ہوئیں۔
امریکی توانائی معلوماتی ادارے کے تخمینوں کے مطابق ایران نے گزشتہ سال 43 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل برآمد کیا، اور مغربی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان برآمدات میں سے تقریباً 90 فیصد چین کو بھیجی گئیں۔
ایک پوشیدہ چال
اس خفیہ نظام میں دو مرکزی ادارے شامل ہیں،جن میں ایک بڑی سرکاری بیمہ کمپنی “سائنو شور” (Sinosure) اور ایک چینی مالیاتی ادارہ “چُو شِن” (Chuxin) جس کا صدر دفتر چین میں ہے۔ حکام نے اس نظام کی تفصیلات مالیاتی دستاویزات، خفیہ انٹیلی جنس رپورٹس اور سفارتی ذرائع سے حاصل کیں۔
کچھ عہدیداروں کے مطابق ایران کے زیرِ انتظام ایک کمپنی تیل کی فروخت ایک چینی خریدار کے نام پر رجسٹر کرتی ہے، جسے “ژوہائی ژینرونگ” (Zhuhai Zhenrong) نامی سرکاری چینی آئل کمپنی چلاتی ہے ، جو پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔
بدلے میں، چینی خریدار ہر ماہ “چُو شِن” کے اکاؤنٹ میں سینکڑوں ملین ڈالر جمع کراتا ہے، جیسا کہ حکام نے تصدیق کی ہے۔
بعد ازاں “چُو شِن” یہ رقوم اُن چینی ٹھیکیداروں کو منتقل کرتا ہے جو ایران میں تعمیراتی منصوبے انجام دے رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی مالی ضمانت “سائنو شور” فراہم کرتی ہے، جو گویا اس پورے نظام کو جوڑنے والا مالیاتی گوند (glue) ہے۔
ایک خفیہ حل
دلچسپ بات یہ ہے کہ “چُو شِن” کا نام چین کی بینکاری ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت درج چار ہزار تین سو سے زائد مالیاتی اداروں کی فہرست میں موجود نہیں، اور نہ ہی یہ کسی سرکاری طور پر دستیاب ریکارڈ یا کمپنی رجسٹری میں ملتا ہے۔
امریکی حکام اور ماہرین کے مطابق جہاں تک ایران سے چین پہنچنے والے خام تیل کا تعلق ہے، وہ ایک غیر مستقیم راستہ اختیار کرتا ہے تاکہ اس کا ماخذ چھپایا جا سکے ،اس دوران تیل کو ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات دوسرے ممالک کے تیل کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
“سائنو شور” (Sinosure)، جس کا مکمل نام “چائنا ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن” ہے، چین کی مرکزی حکومت کا مالیاتی آلہ ہے، جو بیجنگ کی بین الاقوامی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل کرتا ہے ،خاص طور پر اُن ممالک میں جو سیاسی طور پر حساس ہیں، جیسے ایران۔
ورجینیا کی ولیم اینڈ میری یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز "ایڈ ڈیٹا" (AidData) کے مطابق، چین نے 2000 سے 2023 کے درمیان ایران میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 25 ارب ڈالر سے زیادہ کی مالیاتی وابستگیاں کیں، جن میں سے 54 میں سے 16 منصوبوں میں “سائنو شور” نے براہِ راست کردار ادا کیا۔
اگرچہ امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں، لیکن اُس نے ایران میں سول منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ نہیں کیا، اور نہ ہی کسی بڑے چینی بینک کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوئی عوامی دستاویز ایسی نہیں جو “سائنو شور” کو براہِ راست “تیل کے بدلے تعمیرات” والے ایرانی نظام سے منسلک ثابت کرتی ہو۔
چین کا ردِعمل
دوسری جانب چینی وزارتِ خارجہ نے اس نظام کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی اور کہا کہ چین "غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں" کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون ملکوں کے درمیان معمول کے تعاون کی اجازت دیتا ہے۔
ادھراقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے عہدیداروں نے نہ تو ادائیگی کے اس طریقے پر تبصرہ کیا اور نہ ہی چین کی تیل خریداری پر کوئی بیان دیا۔
عراق سے ملتا جلتا نظام
ایڈ ڈیٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر براد پارکس کے مطابق، چین کا ایران میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے استعمال ہونے والا یہ نظام، عراق میں “سائنو شور” کے ایک دستاویزی معاہدے سے ملتا جلتا ہے۔
اس بیس سالہ معاہدے کے تحت، “سائنو شور” چینی منصوبوں کے لیے دی جانے والی قرضوں کی ضمانت فراہم کرتی ہے، بدلے میں تیل حاصل کیا جاتا ہے۔
پارکس نے مزید کہا: ہر قرض دہندہ اور ہر تعمیراتی ٹھیکیدار کو اسی فریم ورک کے تابع ہونا چاہیے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایران اور چین کے درمیان 2021 میں طے پانے والے 25 سالہ شراکت داری معاہدے کے بعد سے ایران میں چینی تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ منصوبے تہران کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ وہ پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کو برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق یہ نظام ایرانی حکومت کو یہ سہولت بھی دیتا ہے کہ وہ تیل کی آمدنی کا ایک حصہ براہِ راست چینی مصنوعات خرید کر واپس حاصل کر سکے۔