بھارت:سپریم کورٹ میں ہندو دیوتا بارے ریمارکس پر وکیل نے چیف جسٹس کے خلاف تنازعہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بھارت جہاں کی اکثریتی ہندو آبادی اپنے مذہبی معاملات میں مبینہ طور پر انتہا پسندی کی حد تک کمٹڈ خیال کی جاتی ہے۔ اس لیے بھارت کچھ عرصے سے ہندوتوا کا ملک بنتا جا رہا یے۔

پیر کے روز اس کے سپریم کورٹ میں ایک تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے کچھ ریمارکس پر ایک وکیل نے اپنی بحث کو قانونی نکات پر فوکس رکھنے کے بجائے ہندوتوا کے ماننے والوں کی عوامی حمایت کو اپنے حق میں کھینچنا چاہا اور چیف جسٹس کے ریمارکس پر اعتراض کیا کہ فاضل چیف جسٹس نے مبینہ طور پر ہندوؤں کے دیوتا کے خلاف بات کی ہے۔

اس پر وکیل نے دلائل پیش کرنے کے بجائے چیف جسٹس پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی۔

سپریم کورٹ میں موجود وکیلوں اور میڈیا کے بعض لوگوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس نے ہندو دیوتا وشنو کے بارے میں حال ہی میں نامناسب ریمارکس دیے تھے۔ جس کے رد عمل میں وکیل نے جوتا چیف جسٹس کی طرف اچھال دیا۔

ایک مقدمے میں ایک شخص نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے ہندوؤں کے ایک دیوتا کے ٹوٹ جانے اور شکستہ ہونے کے بعد اسے تبدیل کرنے کی استدعا کی تھی۔

جس پر چیف جسٹس بی آرگوائی نے جوابا کہہ دیا کہ اپنے دیوتا سے ہی جاکر بات کرو کہ وہ خود اپنے لیے کچھ کر سکتا ہو تو کر لے۔ یہ کہہ کر چیف جسٹس نے درخواست خارج کردی۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ واضح نہیں کہ وکیل نے چیف جسٹس کی طرف جوتا پھینکا یا لپیٹے ہوئے کچھ کاغذ تھے۔ اس پر وکیل کے حامیوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے ہندو مذہب کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔

پچھلے ماہ چیف جسٹس نے ایک موقع پر یہ بھی وضاحت کی تھی کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سپریم کورٹ کے وکلاء سے متعلق ایسوسی ایشن نے پیر کے روز پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی ہے اور قرار دیا ہے کہ وکیل کا یہ رویہ غیر پیشہ وارانہ اور غیر اخلاقی ہے۔ نیز یہ آئینی ڈیکوریم کے بھی خلاف ہے۔

بھارت کے سالیسٹر جنرل مہتا نے کہا ہے کہ یہ ناخوشگوار واقعہ غلط فہمی کی بنیاد رہ ہیش آیا تھا اور یہ غلط فہمی سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلی تھی۔ میں نے خود چیف جسٹس کو مندروں میں جاتے دیکھا ہے۔ مہتا نے یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو اپنے ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بتائی ہے۔

واضح رہے ہندو مذہب میں بے شمار بتوں کی پوجا کی جاتی ہے اور ان بتوں کو دیوتا مانا جاتا ہے۔ اپنے بتوں سے اس عقیدت کی وجہ سے ہندوؤں میں براہیمی مذاہب کے بارے میں مبینہ طور پر سخت رائے پائی جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں