تونسی صدر کے خلاف تنقید کی پاداش میں شہری کو سزائے موت

سزا کے اعلان سے ملک میں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے گرما گرم بحث شروع، سزا کے خلاف اپیل دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تونس کے نابل گورنریٹ کی ایک اپیلٹ عدالت صابر شوشان نامی شہری کے خلاف دی گئی سزائے موت پر دوبارہ غور کرنے کے لیے دوسری سماعت منعقد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

تونسی ذرائع ابلاغ کے مطابق شوشان پر "صدر جمہوریہ اور ریاست کی سلامتی پر حملے" کے الزامات عائد کیے گئے، جو فیس بک پر پوسٹس اور ٹویٹس کی بنیاد پر لگائے گئے تھے۔ حالیہ کئی دنوں سے یہ کیس عوامی حلقوں میں قانون و شہری آزادیوں سے متعلق بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

اس ضمن میں مجرم کی وکیل لیلی حداد نے العربیہ/الحدث کو پیر کے روز بتایا کہ انہوں نے اپنے مؤکل شوشان کے خلاف نابل کی فوجداری عدالت کے کی جانب سے گذشتہ بدھ کو سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

سزائے موت کی وجہ شوشان کی سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس تھیں جس میں انہوں نے مبینہ طور پر تونسی صدر قیس سعید کو ہدف تنقید بنایا تھا۔

عدیم النظیر فیصلہ

وکیل لیلی حداد نے توقع ظاہر کی ہے کہ ان کے مؤکل کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے عدیم النظیر غیر منصفانہ سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے نابل کی ابتدائی عدالت نے صابر شوشان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان پر صدر مملکت کے خلاف توہین آمیز اور ملک کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے فیس بک پوسٹس کرنے کا الزام تھا۔

نیر شوشان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری ملازم کے خلاف بے بنیاد خبریں نشر کیں، صدر کے خلاف غیر مہذب رویہ اختیار کیا اور سرکاری اہلکار کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تاکہ دنیا کے سامنے ریاست کا امیج خراب کیا جا سکے۔

تاہم شوشان کو سنائی گئی سزائے موت نے انسانی حقوق، قانونی شعبے اور ذرائع ابلاغ میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ ان حلقوں کے مطابق سنائی گئی سخت سزا عائد کردہ الزامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ سزا تونس میں رائے اور اظہار کی آزادی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

وکلاء اور سیاستدانوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے متعلقہ شخص ریاست کے لیے کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی مجرم کا میڈیا یا سیاست میں کوئی رسوخ ہے۔ نہ تو وہ اعلی تعلیم یافتہ ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں