بھارت افغانستان میں دوبارہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا، وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے جمعے کو کابل میں ملک کے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سبرامنیم جے شنکر نے یہ بات اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ امیر متقی ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔

افغان ہم منصب سے ملاقات میں جے شنکر نے کہا ہے کہ، ”بھارت افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ بھارت کا ٹیکنیکل مشن اب سفارت خانے کا درجہ حاصل کر رہا ہے۔“

بھارتی وزیرِ خارجہ نے افغانستان کی ترقی اور خوشحالی میں بھارت کی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی یاد دہانی کروائی ہے کہ بھارت پہلے ہی افغانستان میں کئی ترقیاتی منصوبوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے مزید چھ نئے منصوبوں کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے۔

تاریخی طور پر بھارت اور افغانستان کے تعلقات دوستانہ رہے ہیں، تاہم 2021 میں امریکا کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھارت نے کابل میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔

ایک سال بعد بھارت نے ایک محدود مشن دوبارہ کھولا تاکہ تجارت، طبی معاونت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی جا سکے۔

اگرچہ نئی دہلی نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، لیکن دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں اور مذاکرات کے ذریعے تعلقات میں بتدریج بہتری کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔

امیر خان متقی کا یہ دورہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی طالبان رہنما کا بھارت کا پہلا دورہ ہے۔

یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں، خاص طور پر تارکین وطن کی ملک بدری اور سرحدی کشیدگی پر، اور انڈیا کی شمولیت کو پاکستان کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں سٹریٹیجک توازن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا کا مقصد یہ بھی ہے کہ افغانستان میں بنیادی ڈھانچے اور سفارتی موجودگی کے ذریعے چین کے غلبے کو محدود کیا جا سکے۔

یاد رہے اس دورے سے قبل امیر خان متقی نے ماسکو میں ایک علاقائی اجلاس میں شرکت کی، جہاں افغانستان کے ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، ایران، چین اور وسطی ایشیا کی کئی ریاستوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔

اس اعلامیے میں خطے میں کسی بھی غیر ملکی فوجی ڈھانچے کی تعیناتی کی مخالفت کی گئی، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ردِعمل کے طور پر دیکھا گیا کہ وہ کابل کے قریب بگرام ایئربیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، اب تک روس واحد ملک ہے جس نے طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں