لیبیا:پراسرار واردات نےعوام کو ہلا دیا،گاڑی میں باپ اور 5 بچوں کو فائرنگ سے بھُون دیا گیا

بچے اسکول یونیفارم میں ملبوس تھے اور انھوں نے بستے پکڑے ہوئے تھے.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کے شہر بنغازی میں منگل کی شام ایک ہول ناک واقعے نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا جب ایک گاڑی سے باپ اور اس کے پانچ بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہ تمام افراد گاڑی میں جا رہے تھے جب انھیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

عینی شاہدین اور مقامی میڈیا کے مطابق واقعہ "الطلحیہ – الہواری" کے علاقے میں پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وڈیوز میں بچوں کو اسکول کی وردی اور بستوں کے ساتھ مردہ حالت میں گاڑی کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی معائنے کے مطابق فائرنگ قریبی فاصلے سے کی گئی تھی اور موقع پر والد کے ہاتھ میں ایک پستول بھی ملا۔

تفتیشی تفصیلات تا حال غیر واضح ہیں۔ کچھ حلقے واقعے کو خاندانی قتل کے بعد خود کشی قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ پورے گھرانے کو منصوبہ بندی سے قتل کیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اس دل خراش واقعے نے لیبیا بھر میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ سماجی کارکن اسراء المغربي نے کہا کہ "یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ عوام میں خوف اور عدمِ استحکام پیدا کرتا ہے۔" ان کے مطابق یہ خود کشی نہیں لگتی بلکہ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایک شہری نے سوشل میڈیا پر لکھا "یہ منظر ناقابلِ برداشت ہے ... اسکول کے یونیفارم میں معصوم بچے گولیوں کا نشانہ بنے اور کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آیا ... نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہونے والے پر اسرار قتل بڑھتے جا رہے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی ضروری ہے"۔

واقعے کے بعد پارلیمان کی مقرر کردہ حکومت کے سربراہ اسامہ حماد نے ایک بیان میں سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس جرم کی مکمل تحقیقات کریں، وجوہات اور محرکات کا تعین کریں اور نتائج عوام کے سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کو قانونی طور پر نمٹا جائے تاکہ انصاف یقینی ہو اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں