امریکہ: حماس کی قید میں ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی زندگیاں نہیں بھول سکتے

تمام لاشیں واپس لائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کے غزہ میں ہلاک ہو چکے قیدیوں کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے تمام اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس لائی جائیں گی۔ انہوں نے اس امر کی یقین دہانی دو ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ سے اسرائیل میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہفتے کے روز کی ہے۔

مارکو روبیو اسرائیل کے تفصیلی دورے کے بعد ہفتے کی شام اسرائیل سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور اہم اتحادی ملک قطر گئے ہیں۔

ان کا یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف، امریکی صدر جیراڈ کشنر اور امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وانس کے حالیہ دنوں ہونے والے دوروں کے تتمے کے طور پر ہوا ہے۔ تاکہ غزہ کے لیے امریکی منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔

مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اپنے دورہ اسرائیل کے اختتام سے پہلے دو ایسے اسرائیلی خاندانوں سے بھی ملاقات کی جن کے پیاروں کی لاشیں ابھی غزہ کے ملبے تلے سے نکال کر واپس اسرائیل نہیں بھیجی گئی ہیں۔ انہیں روبیو نے تسلی دیتے ہوئے اس ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر لکھا 'ہم غزہ میں حماس کی حراست کے دوران ہلاک کیے گئے اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔'

یاد رہے اسرائیلی قیدی جو غزہ میں حماس اور دیگر گروپوں کی مسلسل قید رہے۔ ان میں سے بعض اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو گئے۔ جن کی لاشیں اب جنگ بندی معاہدے کے تحت واپس کی جارہی ہیں۔

تاہم غزہ کے بمباری سے برباد کیے جا چکی پٹی پر لاکھوں ٹن ملبہ چاروں طرف بکھرا پڑا ہے۔ اسی ملبے تلے ہزاروں فلسطینیوں کی لاشوں کے ابھی تک دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ غزہ میں ایسی مشینری موجود نہیں جو ملبے کو تیزی سے ہٹا سکے۔ اسرائیلی بمباری سے اب تک غزہ قتل کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد 71 ہزار سے زائد ہے۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد فلسطینی بچوں اور خواتین کی ہے۔ ان میں سے تقریبا 70 فیصد فلسطینیوں کو ان کے گھروں پر بمباری کر کے قتل کیا گیا ہے ۔

امریکی وزیر خارجہ نے دو ہلاک ہو چکے اسرائیلی قیدیوں کے خاندانوں سے ملاقات کے بارے میں 'ایکس' پر لکھا میں دو امریکی خاندانوں سے ملا ہوں۔ میں نے ان دونوں ہلاک شدہ قیدیوں کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک تمام اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس نہیں لے آتے۔

اسرائیلی قیدیوں کے خاندانوں نے مارکو روبیو کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان اسرائیلی متاثرہ خاندانوں کی طرف سے 'ایکس' پر مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی 13 قیدیوں کی لاشیں واپس آنا باقی ہیں۔اس لیے آخری لاش کے واپس پہنچنے تک اس سلسلے کو جاری رکھا جائے۔

چین بیک وقت اسرائیل و امریکہ دونوں کا شہری تھا اور اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی سرحد پر بطور سارجنٹ تعینات تھا۔جب فلسطینی اسے سات اکتوبر 2023 کو گرفتار کر کے غزہ لے گئے۔

اسرائیلی فوج نے اس کی ہلاکت کا اعلان مارچ 2024 میں کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ 19 سالہ چین فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا اور اسی موقع پر اس کی لاش فلسطینی جنگجو قبضے میں لے کر غزہ لے گئے تھے۔

جبکہ دوسرا امریکی شہری جس کے پاس اسرائیلی شہریت بھی تھی۔ 21 سالہ نیوترا تھا۔ یہ بھی ایک فوجی تھا یہ فلسطینی حملے میں سات اکتوبر کو ہی ہلاک ہو گیا تھا۔اس کی پرورش نیویارک میں ہوئی تھی۔ وہ کچھ عرصہ پہلے ہی اسرائیل آیا تھا۔

امریکی صدر کے منصوبے کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان دس اکتوبر سے جنگ بندی شروع ہوئی ہے۔ اس دوران حماس نے تمام زندہ قیدیوں سمیت 15 ہلاک ہو چکے اسرائیلیوں قیدیوں کی لاشیں بھی ملبے سے نکل کر اسرائیل روانہ کی ہیں۔

بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے لگ بھگ دو ہزار فلسطینی اسیران کو چھوڑا گیا ہے۔ ان میں درجنوں کی تعداد میں ان فلسطینی اسیروں کی لاشیں بھی ہیں جن کی ہلاکتیں اسرائیلی جیلوں میں تشدد سے ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں