قیدیوں کی لاشیں نکالنے کے لیے ایک مصری ٹیم غزہ میں داخل ہوگئی

اسرائیل نے امریکی دباؤ پر ٹیم کو باقیات برآمد کرنے کے لیے داخل ہونے کی اجازت دی: اسرائیلی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کی جانب سے حماس پر غزہ میں باقی 13 قیدیوں کی لاشوں کے حوالے کرنے میں رکاوٹ کا الزام عائد کیے جانے کے بعد اور ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے اسی بات کا اعادہ کیے جانے کے بعد تل ابیب نے ایک اقدام کیا ہے۔ اسرائیل کے چینل 12 نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے لاشیں نکالنے میں مدد کے لیے مصری ٹیم کے غزہ پٹی میں داخلے کی ذاتی طور پر منظوری دے دی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیل نے امریکی دباؤ کے تحت ٹیم کو باقیات برآمد کرنے کے لیے داخل ہونے کی اجازت دی۔ اسرائیلی انکار اس بہانے کی بنیاد پر کیا گیا تھا کہ حماس اپنے پاس موجود آلات کے ساتھ ہی اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایک سیکیورٹی اہلکار نے ’’ آئی 24 نیوز ‘‘ کو بتایا کہ یہ منظوری یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی کے لیے جاری مذاکرات کے دائرہ کار میں دی گئی ہے۔ اسرائیل میں سیاسی رہنماوں نے مصری درخواست کو منظور کیا کہ آلات اور مصری ٹیم کو صرف لاشوں کو تلاش کرنے کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مصری ٹیم اور سامان غزہ میں داخل ہو گیا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نیتن یاہو کے دفتر نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ وزیر اعظم نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ نیوز ویب سائٹ ’’ والا ‘‘ کے مطابق روبیو نے ہفتے کی صبح ان مقتول فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی جن کی لاشیں غزہ میں رکھی گئی ہیں اور کہا کہ حماس کو ان لاشوں کو واپس کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے جو اس کے پاس موجود ہیں۔

تمام لاشیں واپس لانے کے لیے پرعزم: یاہو

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے حماس پر باقی 13 قیدیوں کی لاشیں حوالے کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔

امریکی تفہیم

عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل مقتول یرغمالیوں کے معاملے پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی ہمارے موقف کو سمجھتے ہیں کیونکہ مرنے والوں میں دو امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت حماس نے 15 قیدیوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں اور ابھی تک غزہ سے 13 دیگر یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئی ہیں۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل واپس آنے والے ہر اسرائیلی کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں فلسطینیوں کے حوالے کرے گا۔ حماس نے حالیہ دنوں میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ لاشوں کو نکالنے کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔ خاص طور پر دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد فلسطینی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی کے پیش نظر یہ عمل مزید مشکل ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں