برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ سوڈان میں شمالی دارفور کےعلاقے الفاشر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے۔ ان کے ملک کو شہریوں کے خلاف ہونے والے خوفناک جرائم کے علاوہ، شہر کے زچگی کے ہسپتال کے اندر ہونے والی اموات کی دستاویزی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
"العربیہ" سے اپنی خصوصی گفتگو میں برطانوی وزیر خارجہ کوپر نے وضاحت کی کہ علاقے میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی پیش قدمی کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار بچے اب فوری خطرے میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سوڈان میں جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اطلاعات پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ سوڈانی بحران کے حل تک پہنچنے کے لیے کوارٹیٹ کی قیادت میں مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
حماس کا کوئی کردار نہیں
غزہ کی صورتحال کے حوالے سے برطانوی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی نازک ہے لیکن پھر بھی امریکی اقدام کی بدولت برقرار ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا ملک تخفیف اسلحہ کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتا ہے اور اس نے غزہ کی پٹی میں تخفیف اسلحہ کے طریقہ کار پر تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لندن نے غزہ میں مائننگ آپریشنز میں بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا غزہ یا فلسطین کی مستقبل کی حکمرانی میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ کوپر نے مزید کہا کہ حماس نے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے اتفاق کیا تھا جس میں تخفیف اسلحہ بھی شامل ہے۔ برطانیہ لبنان میں تنازعات کی واپسی نہیں چاہتا اور وہ وہاں کسی بھی فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
حزب اللہ ایک تباہ کن قوت
برطانوی وزیر خارجہ نے حزب اللہ کو خطے میں ایک تباہ کن قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لندن لبنانی حکومت اور فوج کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی کنٹرول اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوگا۔ ایران کے معاملے پر برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران برطانوی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بنا ہوا ہے۔ لندن نے تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کے پیش نظر اس پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ فوجی کشیدگی کا خواہاں نہیں ہےبلکہ اس کے بجائے ایران کے ساتھ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارتی دباؤ جاری رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔