ایک نیا انکشاف فرانسیسی حکام کے لیے ایک نئی شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔ پیرس کے پراسیکیوٹر لارے پیکاؤڈ نے اعلان کیا کہ گزشتہ ماہ پیرس کے لوور میوزیم سے 102 ملین ڈالر مالیت کے تاریخی زیورات کی دن دیہاڑے ڈکیتی چھوٹے مجرموں نے کی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو منظم جرائم کی دنیا کے پیشہ ور افراد نے نہیں تھے۔ پکاؤڈ نے کہا یہ کوئی عام روزمرہ کا جرم نہیں ہے۔ یہ جرم کی ایک قسم ہے جسے ہم عام طور پر تجربہ کار منظم جرائم کے گروہوں کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے پیرس کے شمال میں ایک غریب علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ وہ مقامی ہیں، وہ سب کسی نہ کسی طریقے سے سین سینٹ ڈینس میں رہتے ہیں۔ وہ فلم اوشینز الیون کے پیشہ ور غنڈوں کی طرح نہیں لگ رہے تھے بلکہ پیرس کے غریب شمالی مضافاتی علاقوں کے چھوٹے مجرموں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکام کو یقین ہے کہ چار چوروں میں سے تین اب حراست میں ہیں تو پیکوٹ نے کہا کہ کم از کم ایک شخص کو ابھی تک پکڑا نہیں گیا ہے۔ انہوں نے دوسرے ساتھیوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
یاد رہے دو ہفتے قبل اتوار کی صبح دو آدمیوں نے لوور میوزیم کے باہر فرنیچر کی لفٹ والی ایک وین کو روکا۔ دوسری منزل پر گئے، کھڑکی توڑ دی اور ڈسپلے کیس کھولے۔ اس کے بعد وہ موٹرسائیکلوں پر دو ساتھیوں کی طرف سے فرار ہو گئے۔ ڈکیٹی کی یہ واردات سات منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کرلی گئی۔
چار گرفتار
کئی فرانسیسی میڈیا آؤٹ لیٹس نے اس وقت قیاس کیا کہ چور شوقیہ تھے کیونکہ انہوں نے اپنے فرار کے دوران سب سے قیمتی زیور، مہارانی یوگینی کا سونے، زمرد اور ہیروں سے بنا تاج، اوزار اور دیگر اشیاء کو جائے وقوعہ پر چھوڑ دیا۔ وہ بھاگنے سے پہلے لفٹ وین کو آگ لگانے میں بھی ناکام رہے۔ دنیا بھر سے سالانہ لاکھوں زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے اس معروف عجائب گھر کی حفاظت کے ذمہ دار سکیورٹی نظام کو بھی کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد پولیس نے لوور میوزیم میں گھسنے کے شبہ میں دو افراد کو گرفتار کیا۔ ایک 34 سالہ الجزائری شخص جو 2010 سے فرانس میں مقیم تھا اور الجزائر جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا اور دوسرا ایک 39 سالہ شخص تھا جو پہلے سے ہی سنگین چوری کے جرم میں عدالتی نگرانی میں تھا۔
دو مزید مشتبہ افراد ایک 37 سالہ مرد اور ایک 38 سالہ خاتون کو 29 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور ہفتے کے روز ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ پیکوٹ نے کہا کہ 37 سالہ شخص کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان چار افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے ڈکیتی کی۔ اس کی گرفتاری وین میں پائے جانے والے ڈی این اے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔