غزہ کی بلدیات کے اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر علاء الدین البطہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں پہنچنے والی امداد اور خیموں کی مقدار نا کافی ہے۔
انھوں نے اتوار کو "العربیہ/الحدث" سے گفتگو میں کہا کہ غزہ کو لاشیں نکالنے اور دفنانے کے لیے مخصوص مشینری کی ضرورت ہے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ علاقے کی انسانی صورتِ حال انتہائی سنگین ہے اور فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے 10 اکتوبر سے جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود غزہ کے اندر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ... اور متعین مقدار میں امداد کی آمد روکی ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے بعد روزانہ داخل ہونے والے ٹرکوں کی اوسط تعداد 89 سے زیادہ نہیں، حالانکہ کم از کم ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ 600 ٹرکوں کا داخل ہونا ضروری ہے۔ یہ بات خبر رساں ایجنسی "اناضول" نے بتائی۔
غزہ کے سرکاری میڈیا بیورو نے بھی تصدیق کی ہے کہ علاقے میں پہنچنے والی امداد کم از کم ضرورت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔
دفتر کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے روزانہ داخل ہونے والے ٹرکوں کی اوسط تعداد 89 سے زیادہ نہیں، حالانکہ کم از کم ضرورت روزانہ 600 ٹرکوں کی ہے۔
دفتر نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ اعداد و شمار "24 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے خلاف گلا گھونٹنے اور بھوکا رکھنے کی پالیسی کے تسلسل" کی نشان دہی کرتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ تقریباً 40 ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں حال ہی میں تل ابیب کے جنوب میں قائم کیے گئے سول ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر میں نمائندگی رکھتی ہیں، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی نگرانی اور دو سالہ خون ریز جنگ کے بعد تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کی ہم آہنگی ہے۔