روزانہ لمبی چہل قدمی، دن میں کئی بار تھوڑی دیر چلنے سے زیادہ مفید
جو لوگ ایک وقت میں صرف پانچ منٹ سے کم چہل قدمی کرتے ہیں، اُن میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے
امریکہ اور آسٹریلیا میں کی جانے والی ایک نئی سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اگر روزانہ 10 سے 15 منٹ تک مسلسل چہل قدمی یا ورزش کی جائے، تو یہ اس بات سے زیادہ فائدہ مند ہے کہ دن میں کئی بار صرف پانچ منٹ پانچ منٹ کے وقفوں میں چلا جائے۔
تحقیق کے مطابق یہ عادت دل کی بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرے کو کم کرتی ہے، خاص طور پر اُن افراد میں جو غیر فعال (سست طرزِ زندگی) یا کم متحرک ہوتے ہیں ،یہاں تک کہ اگر وہ روزانہ مجموعی طور پر ایک ہی تعداد میں قدم چلتے ہوں۔
سائنسی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسن (Annals of Internal Medicine)میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یونیورسٹی آف سڈنی (آسٹریلیا) ہارورڈ یونیورسٹی اور بریگھم اسپتال (امریکہ) کے محققین نے برطانیہ کے تقریباً 33 ہزار بالغ افراد کی صحت کا مطالعہ کیا ،جو روزانہ تقریباً آٹھ ہزار قدم چلنے کو اپنا معمول بنائے ہوئے تھے۔
تقریباً دس سال کے مشاہدے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ دن میں کئی بار پانچ منٹ سے کم وقت کے لیے چلتے ہیں، اُن میں موت کا خطرہ 4 اعشاریہ 4 فیصد تھا، جب کہ وہ افراد جو روزانہ 10 سے 15 منٹ مسلسل چلتے تھے، اُن میں یہ خطرہ صرف 0 اعشاریہ 8 فیصد تک محدود رہا۔
اسی طرح جن لوگوں کی چہل قدمی پانچ منٹ سے کم رہی، اُن میں دل کے امراض یا فالج (ہارٹ اٹیک یا سٹروک) کا امکان 13 فیصد تک پایا گیا، جب کہ روزانہ 15 منٹ یا اس سے زیادہ چہل قدمی کرنے والوں میں یہ شرح صرف 3 اعشاریہ 4 فیصد رہی۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ طویل عرصے تک مسلسل چلنے اور دل کی بیماری یا موت کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق خاص طور پر اُن لوگوں میں زیادہ نمایاں تھا جو غیر فعال زندگی گزارتے ہیں یا روزانہ پانچ ہزار سے کم قدم چلتے ہیں۔
طبی تحقیقاتی ویب سائٹ ہیلتھ ڈے سے گفتگو کرتے ہوئے مطالعے میں شریک محققین نے بتایا کہ اگر کوئی شخص ابتدا میں کم قدم چلنا شروع کرے، تو طویل وقفے کی چہل قدمی اس کے لیے زیادہ مؤثر اور فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔