موسم سرما کی آمد، غزہ تک کافی خیمے اور خوراک نہیں پہنچ رہی: امدادی ایجنسیاں
روزانہ تقریباً صرف 145 ٹرک ہی امدادی سامان پہنچا رہے ہیں: مقامی انتظامیہ غزہ
جنگ بندی کو تقریباً چار ہفتے گذر جانے کے بعد بھی غزہ تک بہت کم امداد پہنچ رہی ہے اور بھوک برقرار ہے جبکہ موسمِ سرما کی آمد قریب ہے اور اسرائیل کے دو سالہ تباہ کن حملوں کے بعد پرانے خیمے اکھڑنا شروع ہو گئے ہیں، یہ بات انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں نے منگل کے روز کہی۔
اس جنگ بندی کا مقصد چھوٹے سے پرہجوم انکلیو میں امداد کا ایک سلسلہ جاری کرنا تھا جہاں اگست میں قحط کی تصدیق ہوئی تھی اور 2.3 ملین باشندوں میں سے تقریباً تمام اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اپنے گھروں سے محروم ہیں۔
تاہم عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق خوراک کی مطلوبہ ضرورت کا صرف نصف علاقے میں پہنچ رہا ہے جبکہ فلسطینی ایجنسیوں کی ایک مرکزی تنظیم نے کہا ہے کہ مجموعی امداد کا حجم متوقع مقدار کے صرف ایک چوتھائی سے ایک تہائی کے درمیان ہے۔
اسرائیل کا بیان ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے جو غزہ میں روزانہ اوسطاً 600 ٹرک امداد کی فراہمی کا متقاضی ہے۔ یہ خوراک کی کسی بھی قلت کے لیے حماس کو ذمہ دار قرار دیتا اور ان پر غذائی امداد تقسیم ہونے سے پہلے ہی چوری کر لینے کا الزام لگاتا ہے جس کی گروپ تردید کرتا ہے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے زیادہ تر ٹرک بدستور اپنی منزل تک نہیں پہنچ رہے اور روزانہ صرف 145 ٹرک سامان پہنچا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ اب معمول کے مطابق اعداد و شمار نہیں دے رہا جو جنگ کے شروع میں غزہ میں امدادی ٹرکوں کے داخلے کے بارے میں روزانہ اعداد و شمار شائع کیا کرتا تھا۔
"مکمل بوسیدہ" خیمے
جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک خیمے میں رہائش پذیر 52 سالہ منال سالم نے کہا، "یہ بہت سنگین صورتِ حال ہے۔ نہ مناسب خیمے، نہ مناسب پانی، خوراک۔" وہ کہتی ہیں کہ ان کا خیمہ "مکمل طور پر خستہ حال" ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ اس کے ساتھ موسمِ سرما نہیں گذر سکے گا۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی ہمدردی او سی ایچ اے (اوچا) نے کہا کہ جنگ بندی اور وسط اکتوبر سے امداد کی زیادہ روانی سے حالات میں قدرے بہتری آئی ہے۔
گذشتہ ہفتے اوچا نے کہا کہ غزہ میں معائنہ کردہ بچوں میں سے ہر دسواں بچہ بدستور غذائیت کی شدید قلت کا شکار ہے جو ستمبر میں 14 فیصد تھا اور 1,000 سے زیادہ بچوں میں غذائیت کی قلت کی شدید ترین صورت ظاہر ہوتی ہے۔
اوچا نے کہا، چونکہ جنگ بندی کے بعد مزید امدادی اور تجارتی سامان داخل ہوا اور گھرانے اوسطاً دو وقت کا کھانا کھا رہے ہیں جو جولائی میں ایک تھا تو غزہ کے نصف خاندانوں نے خصوصاً جنوب میں خوراک تک رسائی میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔
اس نے کہا کہ جنوب اور شمال کے درمیان اب بھی شدید فرق ہے اور وہاں حالات بدتر ہیں۔
خوراک اور پناہ کی مسلسل ضرورت
ڈبلیو ایف پی کی سینئر ترجمان عبیر عاطفہ نے اس صورتِ حال کو "وقت کے مقابلے میں ایک دوڑ" قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "ہمیں مکمل رسائی کی ضرورت ہے۔ ہمیں تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے ہر چیز کی ضرورت ہے۔ سردیوں کے مہینے آنے والے ہیں۔ لوگ بدستور بھوک سے دوچار ہیں اور ضروریات بہت زیادہ ہیں۔"
انہوں نے کہا، جنگ بندی کے بعد سے ایجنسی 20,000 میٹرک ٹن غذائی امداد لے کر آئی ہے جو لوگوں کی ضروریات کا تقریباً نصف ہے اور اس نے 145 تقسیمی مراکز کے ہدف میں سے 44 کھول دیئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غذائیت کی کمی دور کرنے کے لیے درکار متنوع خوراک کی بھی کمی ہے۔
"ہم نے جن گھرانوں سے بات کی ہے ان کی اکثریت صرف اناج، دالیں، خشک خوراک کا راشن استعمال کر رہی ہے جس پر لوگ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے۔ گوشت، انڈے، سبزیاں، پھل بہت کم استعمال ہو رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔
اوچا نے کہا، ایندھن بشمول کھانا پکانے والی گیس کی مسلسل کمی بھی غذائیت کی کوششوں میں حائل ہے اور غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ لوگ کھانا پکانے کے لیے بیکار چیزیں جلا رہے ہیں جو صحت کے خطرات میں اضافے کا باعث ہے۔
موسم سرما کے قریب آتے ہی غزہ کے باشندوں کو پناہ کی ضرورت ہے۔ خیمے خستہ حال ہیں۔ فوجی حملوں سے بچ جانے والی عمارات اکثر موسم کی سختی سے بچانے کے قابل نہیں یا غیر مستحکم اور خطرناک ہوتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے والی فلسطینی ایجنسیوں کے سربراہ امجد الشوا نے کہا، "جلد ہی موسم سرما آ رہا ہے - برساتی پانی اور ممکنہ سیلاب نیز آبادی والے علاقوں کے قریب سینکڑوں ٹن کچرے کی وجہ سے ممکنہ بیماریاں آنے والی ہیں"۔
انہوں نے کہا، اب تک غزہ میں متوقع امداد کا صرف 25-30 فیصد ہی داخل ہوا ہے۔
نارویجن پناہ گزین کونسل (این آر سی) کی ترجمان شائنا لو نے کہا، "زندگی کے حالات ناقابلِ تصور ہیں۔" یہ کونسل غزہ میں پناہ گاہوں کی کمی پر کام کرنے والی ایجنسیوں کے ایک گروپ کی قیادت کرتی ہے۔
لو نے کہا، این آر سی کا اندازہ ہے کہ غزہ میں 1.5 ملین لوگوں کو پناہ کی ضرورت ہے لیکن خیموں، ترپالوں اور متعلقہ امداد کی بڑی مقدار بدستور اسرائیل کی منظوری کے منتظر ہے۔