جرمنی : ایک افغانی ڈینش شہری مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جرمنی سیکیورٹی اداروں نے ڈنمارک سے بدھ کے روز ایک ایسے شہری کو حراست میں لے لیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ڈنمارک کے ایک شہری کی مشکوک سرگرمیوں میں شامل تھا۔ مبینہ ڈینش شہری جرمنی میں یہودی اہداف اور مقامات کے بارے میں ڈیٹا جمع کرنے میں ملوث بتایا جاتا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کا خیال ہے کہ ڈنمارک کا شہری یہ ڈیٹا ایرانی انٹیلی جنس کے لیے جمع کرتا ہے۔ جبکہ افغانی شہری بھی اس ڈینش کے ساتھ رابطے میں تھا۔ سیکورٹی حکام کو شبہ ہے کہ افغانی نے یہودیوں پر جرمنی میں کسی حملے کے لیے اسلحہ فراہم کرنا تھا۔

جرمنی کے وفاقی پراسیکیوٹر کا اس بارے میں کہنا ہے ماہ مئی کے اواخر میں تواب ایم نے علی ایس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک تیسرے فرد کے لیے اسلحہ رکھے گا۔ تاکہ وہ جرمنی میں حملے کرسکے۔

جرمنی حکام کا کہنا ہے کہ تواب ایم ڈنمارک سے اسلحہ بارود ، دھماکہ خیز ڈیوائسز اور اسلحہ سے متعلق دیگر اشیا کی خریدنے کا پہلے بھی ریکارڈ رکھتا ہے۔

اس معاملے میں تیسرے شریک شخص کا نام ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔ تاہم علی ایس کو ماہ جون میں حراست میں لیا گیا تھا۔

جرمنی کے پراسیکیوٹر کے مطابق اس شخص کی جون میں گرفتاری اس شبہ میں ہوئی تھی کہ کہ وہ ایک اور شخص کو قتل کے لیے اکسانے پر راضی ہو گیا تھا۔

افغانی شہری کے وارنٹ گرفتاری گزشتہ ماہ جاری کیے گئے تھے۔ اب گرفتاری کے بعد اسے جرمنی کے ایک جج کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ اس پر الزامات درست ہے یا نہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ سارا پراسس کب تک مکمل ہوگا۔

یاد رہے ماہ جون میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ نے بھی اس حملے میں حصہ لیتے ہوئے ایرانی جوہری تنصیبات پر مثالی بمباری کی تھی۔ یہ جنگ 12 روز جاری رہی۔

جنگ کے بعد جرمن سکیورٹی حکام نے جرمنی میں یہودیوں اور اسرائیلی مراکز کے تحفظ میں اضافہ کر دیا تھا۔ تاکہ ایران کوئی جوابی کارروائی کر کے انہیں نشانہ نہ بنائے۔

خیال رہے جرمنی اسرائیل کا ایک مضبوط اتحادی ہے جبکہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات لمبے عرصے سے کشیدہ ہیں۔ حالانکہ جرمنی ان تین اہم یورپی ملکوں میں بھی شامل ہے جنہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حالیہ مہینوں میں بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔ تاہم اکتوبر میں جرمنی نے ایران کے اپنے یہاں تمام قونصل خانوں کی بندش کا حکم دے دیا۔

کہا گیا کہ یہ بندش جمشید نامی ایک جرمن شہری کو ایرانی عدالت سے سزائے موت سنانے پر کی گئی۔ یہ جرمن شہری امریکہ میں مقیم تھا مگر 2020 میں اسے ایرانی سیکورٹی اہلکاروں نے دبئی سے گرفتار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں