سوڈانی شہری مسلسل دوسرے ہفتے شمالی دار فور ریاست کے دارالحکومت الفاشر سے فرار ہو رہے ہیں۔ یورپی یونین نے گزشتہ عرصے کے دوران شہر میں ہونے والے جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو ’’ العربیہ/ الحدث‘‘ کو بتایا کہ دفاعی اتحاد الفاشر میں سنگین جرائم کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔
شہریوں پر حملے
یورپی یونین نے زور دیا کہ وہ الفاشر میں شہریوں کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ بات بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ 26 اکتوبر سے اب تک 81,000 سے زائد افراد الفاشر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ یورپی مؤقف سوڈانی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں کے ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے گزشتہ ہفتے شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد الفاشر میں خوفناک جرائم کا ارتکاب کیا۔ ییل یونیورسٹی کی طرف سے شائع کردہ رپورٹس اور سیٹلائٹ امیجز نے مغربی سوڈان کےعلاقے الفاشر میں قتل عام کے 31 مقامات کے ساتھ خون کے دھبے اور جلے ہوئے علاقوں کا انکشاف کیا ہے۔
دریں اثنا سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ آر ایس ایف کی جانب سے کی گئی الفاشر ، الجنینہ اور الجزیرہ میں برپا کی گئی بغاوت کو شکست دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ یہ جنگ، جس نے گزشتہ دو سالوں میں دسیوں ہزار جانوں کا دعویٰ کیا ہے اور لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے، پچھلے دو ہفتوں میں ملک کے نئے علاقوں میں پھیل گئی ہے جس سے انسانی تباہی کے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔