انڈونیشیا میں سکول کے دھماکوں میں تقریباً 100 زخمی، طالب علم سے تفتیش جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انڈونیشیا کے حکام نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ ایک طالب علم سے تفتیش کر رہے ہیں جس پر دارالحکومت جکارتہ کے ایک سکول میں دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔

دھماکوں میں شمالی جکارتہ کے ایک سکول کی مسجد اس وقت نشانہ بنی جب لوگ نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ اس واقعے سے نمازیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

قومی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ تفتیش کاروں نے اپنی تحقیقات میں "شواہد کی کئی کڑیاں" جمع کی ہیں۔

پولیس کے سربراہ Listyo Sigit Prabowo نے Kompas TV پر نشر کردہ تبصروں میں کہا، "ہمارے پاس تحریر ہے اور پاؤڈر کے بھی شواہد موجود ہیں جو دھماکے کا ممکنہ سبب بنا ہو گا۔"

حکام نے اب تک ایک مشتبہ شخص کی شناخت کی ہے جو دھماکوں میں زخمی ہونے والا ایک طالب علم ہے لیکن لسٹیو نے دیگر افراد کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا۔

پولیس چیف نے مزید کہا، تفتیش کار ملزم کے اہلِ خانہ اور سوشل میڈیا کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ کم از کم 14 زخمی ہنوز ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے دو انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

انہوں نے سابقہ تعداد 54 میں نیا اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں چھیانوے افراد زخمی ہوئے۔

انسدادِ دہشت گردی پولیس یونٹ ڈینسس 88 کے ترجمان میندرا ایکا وردھنا نے اے ایف پی کو بتایا، تفتیش کاروں نے مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی لی ہے۔ وہ بدستور اس واقعے کے محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایک گواہ نے اے ایف پی کو بتایا، جو کچھ ہوا اس پر الجھن ہے۔

"پہلے ہم نے سوچا کہ دھماکہ کسی الیکٹرانک آلات میں ہوا، شاید ساؤنڈ سسٹم میں لیکن پتہ چلا کہ یہ جائے نماز کے نیچے سے ہوا،" ایک 17 سالہ طالبہ کنزیٰ غیسان ریان نے جمعہ کو بتایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں