شام کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے سکیورٹی یونٹس نے جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے تعاون سے کئی صوبوں میں داعش سے وابستہ دہشت گرد سیلوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر سیکورٹی آپریشن کیا۔ یہ آپریشن قطعی انٹیلی جنس اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان عناصر کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی پر مبنی تھا۔
ہفتہ کو جاری کردہ ایک بیان میں شامی وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ آپریشن دہشت گردی سے نمٹنے اور وطن کی سلامتی اور اس کے شہریوں کی حفاظت کو نشانہ بنانے والے سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جاری قومی کوششوں کے فریم ورک کے اندر کیا گیا۔
لقطات من العملية الأمنية التي نفذتها وحدات وزارة الداخلية بالتعاون مع جهاز الاستخبارات العامة في محافظة إدلب، والتي استهدفت خلايا إرهابية تابعة لتنظيم داعش، بعد متابعة استخباراتية دقيقة وتعقب شامل لأنشطتها المشبوهة.#الجمهورية_العربية_السورية#وزارة_الداخلية pic.twitter.com/qo3rlcNE18
— وزارة الداخلية السورية (@syrianmoi) November 8, 2025
بیان میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد سیلوں کو ختم کیا گیا اور متعدد مطلوب افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے منسلک کرنے والے مواد اور شواہد کو بھی قبضے میں لے لیا گیا اور فی الحال متعلقہ حکام ان کا تجزیہ اور تفتیش کر رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان اعلیٰ سطح کی ہم آہنگی اور خطرات سے نمٹنے کے لیے ان کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کو تقویت ملتی ہے۔
واضح رہے داعش، جس نے 2014 میں شام اور عراق میں بڑے علاقوں کو کنٹرول کیا تھا، کو 2017 سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کی صلاحیتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی افواج میں کمی آئی ہے حالانکہ اس کے کچھ سیل اب بھی شام کے صحراؤں اور عراق کے کچھ صحرائی علاقوں میں سرگرم ہیں۔