حماس غزہ کے انتظامی امور میں فلسطینی حکومت سے الگ راستہ اختیار کر رہی ہے:تحریک فتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تحریکِ فتح نے کہا ہے کہ حماس غزہ کی انتظامی کمیٹی کے ارکان اور اس کے سربراہ کا انتخاب فلسطینی حکومت سے باہر کے افراد میں سے کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ فتح کے مطابق یہ طرزِ عمل فلسطینی صفوں میں تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے اور علیحدگی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

فتح نے حماس پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھے اور فلسطینی سیاسی نظام کے اتحاد کا راستہ اختیار کرے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے دعویٰ کیا کہ اس نے مصر کے ساتھ ایک انتظامی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جو آٹھ فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہو گی جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جبکہ اس کی سربراہی امجد الشوا کے سپرد کی جائے گی۔ تاہم اسرائیل نے اس کمیٹی کی تشکیل میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔

حماس کے رہنما علی برکہ نے اتوار کو ٹی وی چینل "الاقصیٰ" سے گفتگو میں بتایا کہ مصر کے ساتھ غزہ کے انتظام کے لیے ایک کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہو چکا ہے مگر اسرائیل اس عمل کو تعطل کا شکار کر رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کمیٹی میں آٹھ فلسطینی شخصیات شامل ہوں گی جن میں ایک خاتون بھی ہے، جبکہ سربراہ امجد الشوا ہوں گے۔ علی برکہ نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے کسی بھی سمجھوتے کو فلسطینی مسئلے کے خلاف قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ رفح بارڈر فوری اور مستقل طور پر کھولا جائے۔ ان کے مطابق غزہ کی صورتحال بدترین ہے کیونکہ اسرائیل جنگ بندی کی شرائط کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔

علی برکہ نے اس بات پر زور دیا کہ حماس جنگ بندی کے معاہدے کو کامیاب بنانے اور اس کی تمام شقوں پر عمل درآمد کی خواہش رکھتی ہے اور وہ اسرائیل میں موجود امریکی ایلچی کی مشاورت کے نتائج کی منتظر ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز اس وقت ہو گا جب سرحدی گزرگاہیں کھول دی جائیں گی اور پہلے مرحلے کی تمام شقیں نافذ کر دی جائیں گی۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے واضح کیا کہ امارات غزہ میں استحکام کے لیے مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت کا امکان کم سمجھتا ہے۔

انور قرقاش نے کہا کہ تاحال غزہ میں استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس کا کوئی واضح فریم ورک سامنے نہیں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں