'میں اس وقت کو یاد کرتا ہوں جب نئی دہلی میں سانس لیا جا سکتا تھا'
بد ترین آلودگی کے خلاف احتجاج
دنیا کے آبادی کے اعتبار سے پہلے ایک دو ملکوں میں شمار ہونے والے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتہا کو چھو جانے والی ماحولیاتی آلودگی نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا۔ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ان غیر ملکیوں کو ہے جو اپنے سفارتی یا کاروباری اسائنمنٹس پر نئی دہلی میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
دارالحکومت دہلی میں اتوار کے روز ماحولیاتی آلودگی کے انتہائی بڑھ جانے پر تکلیف کا اظہار مظاہرین نے کیا ہے۔ یہ مظاہرہن بھارتی سرکار سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آلودگی کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔ تاکہ شہریوں کا دہلی میں رہنا ممکن رہ سکے۔
نئی دہلی جو کافی عرصے سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں نمایاں ہے۔ اس کی فضائیں اب ہر وقت اسے زہریلی گردوغبار اور دھوئیں سے ڈھانپے رکھتے ہیں۔
احتجاجی ریلی میں بہت سے والدین اپنے بچوں کے ساتھ آئے۔ انہوں نے ماسک لگا رکھے تھے اور وہ پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر تحریر تھا 'مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب میں دہلی میں آسانی سے سانس لے سکتا تھا۔'
بعض مبصرین کے خیال میں یہ مظاہرین اپنے بچوں کو ساتھ لاکر حکومت کو باور کرانا چاہتے تھے کہ ان کی نئی نسل کا نئی دہلی میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے مستقبل مخدوش ہے اور ان کے بچوں کو آلودگی کی وجہ سے کئی قسم کی بیماریوں کا خطرہ ہے۔
خیال رہے نئی دہلی 3 کروڑ کی آبادی کا شہر ہے۔ مگر دنیا کے دارالحکومتوں میں اس کی شناخت اب محض گنجان آباد ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا آلودگی کے حوالے سے بدترین دارالحکومت قرار پانا ہے۔
یورپ اور امریکہ کے لوگ جو موسم سرما میں اپنی چھٹیوں کے دوران سیاحت کے لیے دنیا کے دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں اب ان کے لیے نئی دہلی مشکل سیاحتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ کیونکہ موسم سرما میں نئی دہلی کی فضا کو آلودگی مزید زیادہ شدت سے ڈھانپ لیتی ہے۔ اس میں معمول کی آلودگی جو فیکٹریوں اور ٹریفک کے اژدھاموں سے پیدا ہوتی ہے اس میں فصلوں کی باقیات کے جلائے جانے کے بھارتی کلچر نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت میں صدیوں سے یہ روایت جاری ہے کہ بعض فصلوں کی باقیات کو جلا دیا جاتا ہے۔ اس بات کی پروا کیے بغیر کہ گاڑیوں، فیکٹریوں اور فصلوں کے اس دھوئیں سے مل کر تیار ہونے والی آلودگی کینسر 2.5 پی ایم کا مؤجب بنتی ہے۔ کیونکہ یہ مائیکرو پارٹیکلز خون میں داخل ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے مطابق صحت کی حد سے 60 گنا زیادہ تک بڑھ جاتے ہیں۔
مظاہرے میں شامل ایک ماں جس کا نام نمرتا یادیو ہے نے کہا میں اپنے بیٹے کو ساتھ لائی ہوں۔ لیکن میں نہیں چاہتی کہ میرا بیٹا ماحولیات کی اس آلودگی میں رہنے پر مجبور رہے۔ ہم موسمیاتی پناہ گزین نہیں بننا چاہتے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز دہلی کے بیرونی دروازے انڈیا گیٹ کے آس پاس آلودگی کی سطح 2.5 پی ایم تھی۔ اس جگہ بھی مظاہرین جمع ہو کر ماحولیاتی آلودگی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔
مظاہرین میں شامل ایک وکیل تنوی کسم کا کہنا تھا کہ ہر سال کی ایک ہی کہانی ہے کہ آلودگی بڑھ رہی ہے مگر اس کا کوئی حل نہیں نکالا جا رہا۔
وکیل نے کہا میں اس لیے یہاں آئی ہوں کہ میں بہت مایوس تھی۔ اس آلودگی نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس معاملے میں قدرے سنجیدگی اختیار کر لیں۔
ایک اور نوجوان خاتون نے مظاہرے کا حصہ بننے کے بعد کہا میں اپنا نام نہیں بتانا چاہتی مگر میں دہلی کو بچانے کے لیے آواز ضرور بلند کر رہی ہوں۔
ایک رپورٹ جو ایک بین الاقوامی ادارے 'لانسیٹ پلانیٹری ہیلتھ' نے پچھلے سال جاری کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 2009 اور 2019 کے درمیان بھارت میں 38 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری طرف اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے نے بھی انتباہ کیا ہے کہ اس انتہائی آلودگی کے ماحول میں بچوں میں سانس کی بیماریوں اور انفیکشن کے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
مظاہرین کی تعداد نئی دہلی کی اس بدترین آلودگی کے خلاف جیسے جیسے بڑھنا شروع ہوئی پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنا شروع کردیا اور بعض کو حراست میں لے کر بسوں میں بٹھانا شروع کردیا۔ حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز اور بینرز بھی پولیس نے قبضے میں لے لیے اور آلودگی کے خاتمے کے لیے ان کی مہم کو غیر قانونی سمجھتے ہوئے روک دیا۔
پولیس کے اس جبری طریقے سے روکے گئے مظاہرے کے دوران ایک پھٹے ہوئے بینر سے یہ صاف پڑھا جا رہا تھا کہ میں صرف آلودگی سے پاک ماحول میں سانس لینا چاہتا ہوں ۔