برطانوی آرمی چیف رچرڈ نائٹن نے اتوار کے روز کہا ہے کہ برطانیہ نے بیلجیئم کو ماہرین اور سازوسامان بھیجنا شروع کر دیا ہے تاکہ اس ڈرون حملے سے نمٹنے میں مدد کی جا سکے جس کی وجہ سے ہوائی اڈے عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں۔ بیلجیئم کے ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں پر گزشتہ ہفتے ڈرونز دیکھے گئے تھے۔ حالیہ مہینوں میں ان ڈرونز نے پورے یورپ میں نمایاں خلل پیدا کیا ہے۔
رچرڈ نائٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیلجیئم ہم منصب نے مدد کی درخواست کی تھی اور سامان اور اہلکار راستے میں ہیں۔ سیکرٹری دفاع اور میں نے گذشتہ ہفتے بیلجیئم میں ان کی مدد کے لیے اہلکاروں اور ساز و سامان کی تعیناتی پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے سامان کی قسم یا اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نائٹن نے مزید کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ دیکھے جانے والے ان ڈرونز کے پیچھے کون ہے لیکن انہوں نے کہا کہ روس نے حالیہ برسوں میں کثیر جہتی جنگ کے انداز میں حصہ لیا ہے۔ دوسری طرف روس نے بارہا ان واقعات میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ مشرقی بیلجیئم میں برسلز اور لیج کی خدمت کرنے والے ہوائی اڈوں پر ڈرونز کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا جس نے آنے والی کئی پروازوں کا رخ موڑنے پر مجبور کیا اور منگل کو کچھ طے شدہ روانگیوں کو روک دیا۔ ڈرون نظر آنے کی وجہ سے جمعرات کو سویڈن سمیت کئی ملکوں کے ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے تھے۔