بنگلہ دیشی پراسیکیوٹرز نے منگل کو کہا ہے کہ معزول سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت سوز جرائم کے مقدمے کا فیصلہ اس ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔
گذشتہ ماہ اس مقدمے کی سماعت ختم ہونے کے بعد فیصلے کے وقت کے بارے میں الجھن پیدا ہوئی جب 13 نومبر کے لیے اس کی سماعت مقرر کی گئی تھی۔
لیکن بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے پراسیکیوٹر غازی منور حسین تمیم نے کہا کہ جمعرات کی سماعت صرف "فیصلے کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے" تھی۔
تمیم نے کہا، "ہمارے سابقہ تجربے کی بنیاد پر عدالت کو فیصلہ سنانے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ عدالت 13 نومبر کو فیصلے کی تاریخ طے کرنے والی ہے۔"
اگست 2024 میں ایک مہلک بغاوت کے بعد حسینہ کی مطلق العنان حکومت کا تختہ الٹ گیا جس کے بعد سے بنگلہ دیش سیاسی بحران کا شکار ہے۔ موجودہ عبوری حکومت نے فروری 2026 میں انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔
اٹہتر سالہ حسینہ نے طلبہ کی زیرِ قیادت ہونے والی بغاوت کو دبانے کی ناکام کوشش میں ایک مہلک کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا جس کے الزام میں اپنے مقدمے کی سماعت میں شرکت کے لیے انہوں نے بھارت سے واپس آنے کے عدالتی احکامات کی نفی کی ہے۔
یکم جون کو ان کی غیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی اور کئی مہینوں تک شواہد سنے گئے جن میں ان پر اجتماعی قتل کا حکم دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے اگست 2024 کے درمیان 1400 افراد ہلاک ہوئے۔
استغاثہ نے پانچ الزامات عائد کیے ہیں جن میں قتل کو روکنے میں ناکامی شامل ہے جو بنگلہ دیشی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے برابر ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہوں نے حسینہ کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔
حسینہ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اپنے مقدمے کو ایک "قانونی مذاق اور تماشہ" قرار دیا ہے۔
ان کے شریک ملزمان میں سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال -- جو مفرور بھی ہیں -- اور سابق پولیس سربراہ چودھری عبداللہ المامون شامل ہیں جو زیرِ حراست ہیں اور انہوں نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔
حسینہ کی کالعدم عوامی لیگ نے جمعرات کو ملک گیر "لاک ڈاؤن" کا مطالبہ کیا اور بنگلہ دیش میں سکیورٹی ایجنسیوں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔