برطانیہ کی حکومت نے بی بی سی کے خلاف امریکی مخالفانہ لہر کے بعد دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے۔ امریکہ نے بی بی سی پر صدر ٹرمپ کی تقریر اور دستاویزی فلم کی ایڈیٹنگ کو جواز بنا کر الزامات عائد کیے تھے کہ یہ ایک جانبدار ادارہ ہے۔
برطانوی وزیر ثقافت لیزا نینڈی نے کہا جو تحفظات اور تشویش بی بی سی کے حوالے سے پیش کیے گئے ہیں وہ سنجیدہ ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں اس ایوان میں اس سے بھی زیادہ سنگین آئی ہیں کہ بی بی سی اداراتی سطح پر متعصب اور جانبدار اداہ ہے۔ انہوں نے یہ بات دارالعلوم میں منگل کے روز کہی۔
انہوں نے کہا برطانیہ کا خبری شعبے میں یہ اب تک کا سب سے زیادہ سنا اور دیکھا جانے والا قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جب خبروں، حقائق اور بحث مباحثے کے درمیان واضح خطوط دھندلے ہوتے جا رہے ہیں ، بی بی سی کا ایک الگ مقام ہے۔
بی بی سی نے پیر کے روز اس امر پر معذرت کی تھی کہ اس کی طرف سے کی گئی ایڈیٹنگ گمراہ کن تھی۔
یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ دستاویزی فلم بہت پہلے بنائی گئی تھی۔ جس پر صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً بی بی سی سربراہ ٹم ڈیوی اور شعبہ خبر کے سربراہ ڈیبورا ٹرنس نے استعفیٰ دے دیا۔
بی بی سی متعلق یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت نے اس نشریاتی ادارے کے لیے اپنے فنڈنگ کے موجودہ ماڈل کا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا ہے۔
فنڈنگ کے لیے برطانوی حکومت کا موجودہ ماڈل 2027 تک جاری رہے گا۔ نشریاتی ادارے کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ایک ذریعہ برطانیہ کے لوگوں سے سالانہ لائسنس فیس کا وصول کیا جانا ہے۔ لیکن اس موجودہ مالی ماڈل کو بی بی سی کے حریف اداروں نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے 2028 سے بی بی سی کے لیے ایک نئے فنڈنگ ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے۔
نینڈی نے کہا وہ جلد ایک گرین پیپر شائع کریں گی جس کے ذریعے وہ اپنے خیالات عوام کے سامنے لائیں گی تاکہ اس کے ذریعے عوام کے خیالات جانے جا سکیں۔
انہوں نے کہا وہ یقین دلائیں گی کہ بی بی سی آئندہ بھی غیر جانبدار رہے گا اور وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوگا جن کے لیے وہ خدمات انجام دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران بی بی سی کو جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے دو استعفے دینا اس کا حل نہیں ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر جن کا بائیں بازو سے تعلق ہے۔ ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بی بی سی کے خلاف دائیں بازو کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ حملوں میں بی بی سی کا دفاع کریں گے۔ اگرچہ کیر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کی بنیاد رکھ لی ہے اور برطانیہ کے لیے حمایت و تجارت کے حوالے سے پیش رفت کا امکان ہے اور وہ روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف امریکی حمایت جاری رکھیں گے۔
یاد رہے جس دستاویزی فلم کی ایڈیٹنگ پر مسئلہ بنا ہے اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ' ہم کیپیٹل جائیں گے اور سہ جہنم کی طرح لڑیں گے۔'
مگر کہا جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ ریمارکس اپنی تقریر کے ایک مختلف حصے میں تھے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر بی بی سی کو بدعنوان ادارہ قرار دیا ہے اور اس کے حکام کو بد دیانت کہا ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
صدر ٹرمپ کے وکیلوں نے اتوار کے روز بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کو ایک ارب ڈالر کا قانونی نوٹس بھیجا ہے کہ وہ اگر اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کریں گے تو ایک ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔
بی بی سی نے جواباً کہا ہے کہ ہم ایسی کسی بھی قانونی کارروائی کا جواب دیں گے اور عدالت میں جو بھی ضروری ہوا کریں گے۔
اگرچہ سمیر شاہ نے پیر کے روز برطانوی پارلیمنٹ کے ایک پینل کے سامنے یہ تسلیم کیا تھا کہ بی بی سی کی ڈاکیومنٹری میں یہ تاثر دیا جانا غلط تھا کہ ٹرمپ نے کارکنوں کو تشدد کے لیے کہا تھا۔ سمیر شاہ نے یہ بھی کہا کہ بی بی سی اپنے اس 'ایرر آف ججمنٹ' کی بنیاد پر معافی بھی مانگ سکتا ہے۔
-
ٹرمپ نے بی بی سی کو ایک بلین ڈالر کے مقدمے کی دھمکی دی ہے: قریبی قانونی ذرائع
ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کو ایک بلین ڈالر کے مقدمے کی دھمکی دی ہے، یہ بات امریکی صدر ...
بين الاقوامى -
بلجیئم میں انتخابات میں ٹرمپ کا نام بیلٹ پیپر پر کیوں شائع کیا جا رہا ہے؟
انتہاپسند جماعت نے امریکی صدر کے نام سے تحریک شروع کر دی
بين الاقوامى -
ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لیے معافی کی اپیل ... اسرائیلی صدر نے مسترد کر دی
سال 2019 میں اسرائیلی وزیرِاعظم پر تین مقدمات میں فردِ جرم عائد کی گئی
مشرق وسطی