برطانیہ: ہزاروں ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور نوکریوں میں اضافے کے لیے ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جمعہ کو انگلینڈ میں ہزاروں برطانوی ڈاکٹروں نے تنخواہ اور تربیتی پوسٹوں پر پانچ روزہ ہڑتال شروع کر دی جو مارچ 2023 کے بعد سے طبی ماہرین کی 13 ویں ہڑتال ہے۔

لیبر حکومت کے وزیرِ صحت نے بعض زیرِ تربیت اور کنسلٹنٹ کی سطح سے نیچے کام کرنے والے ڈاکٹروں کی ہڑتال کی مذمت کی جو ہسپتالوں کی نصف طبی افرادی قوت ہیں۔

ویس سٹریٹنگ نے کہا، ڈاکٹرز کی یونین یعنی برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (بی ایم اے) کی قیادت "تصادم کو مریضوں کی نگہداشت پر ترجیح دے رہی ہے"۔

انہوں نے ڈیلی ٹیلی گراف میں لکھا، "یہ ہڑتال اب انصاف کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ سیاسی پوزیشن کے بارے میں ہے۔"

نیز کہا، "ہم تنخواہ پر آگے نہیں بڑھ سکتے خصوصاً گذشتہ تین سالوں میں تنخواہ میں 28.9 فیصد اضافے اور گذشتہ دو سالوں میں پورے پبلک سیکٹر میں سب سے زیادہ تنخواہیں دینے کے بعد نہیں کر سکتے۔"

بی ایم اے کا استدلال ہے کہ ڈاکٹروں کو تنخواہوں میں بدستور 26 فیصد اضافے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی کمائی کی وہ قدر حاصل کر سکیں جو دو عشروں پہلے تھی۔

یونین تربیتی پوسٹوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔

ڈاکٹروں نے شکایت کی ہے کہ بعض معاملات میں صرف 10,000 تربیتی پوسٹوں کے لیے 30,000 سے زیادہ ڈاکٹر درخواستیں دے رہے ہیں جس سے وہ کنسلٹنٹ بننے کی طرف ترقی کر سکیں گے۔

صورتِ حال یہ ہے کہ کئی ڈاکٹر برسوں کی تربیت کے بعد مستقل ملازمت کے بغیر ہیں۔

برطانیہ بدستور اخراجاتِ زندگی کے ایک دیرینہ بحران کی گرفت میں ہے جو پوری معیشت میں ہڑتالوں کی وجہ بن گیا ہے۔

اساتذہ، نرسیں، ایمبولینس ورکرز، وکلاء، ٹرین ورکرز اور سرحدی عملے سمیت مختلف گروپس نے گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں ہڑتال یا واک آؤٹ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں