امریکی اٹارنی علینا حبہ کے دفتر میں ہنگامہ آرائی کرنے والا ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتار
اس سال پورے امریکہ میں متعدد شخصیات سیاسی بنیادوں پر حملوں کا نشانہ بنیں
ایف بی آئی کے مطابق وفاقی حکام نے ہفتے کے روز ایک شخص کو گرفتار کر لیا جس پر الزام ہے کہ اس نے بیس بال کا بیٹ چلاتے ہوئے نیو جرسی میں نیوارک کی وفاقی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں قائم مقام امریکی اٹارنی علینا حبہ کا دفتر واقع ہے۔
مشتبہ شخص کی شناخت 51 سالہ کیتھ مائیکل لیزا کے نام سے ہوئی جس نے مبینہ طور پر بدھ کے روز بلے کے ساتھ عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن عدالتی سکیورٹی اہلکاروں نے اسے روک دیا۔ بیورو نے بتایا کہ بعد میں وہ بلے کے بغیر واپس آیا، حبہ کے دفتر والی منزل پر گیا، بے ساختہ چیخنا شروع کر دیا اور املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد بھاگ گیا۔ تاہم حبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حبہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں اپنے کام کے سلسلے میں بنیاد پرست پاگلوں سے نہیں ڈروں گی۔"
امریکی اٹارنی جنرل پام بوندی نے مشتبہ شخص کی گرفتاری کا سہرا ایف بی آئی، یو ایس مارشل سروس اور ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشن کو دیا۔
بوندی نے ایک بیان میں کہا، "کوئی بھی ہمارے امریکی وکلاء کو ڈرانے دھمکانے یا ان کے دفاتر تباہ کر کے بچ نہیں سکے گا۔"
یہ واقعہ اس سال پورے امریکہ میں سیاسی بنیادوں پر کیے گئے حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ گذشتہ مہینے نیویارک کے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے ایوان کے ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز کو حکومتی شٹ ڈاؤن میں ان کے کردار پر قتل کی دھمکی دی تھی۔
قبل ازیں مینیسوٹا ہاؤس کی ایک سابق سپیکر اور ان کے شوہر کو گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ پنسلوانیا کے ڈیموکریٹ گورنر جوش شاپیرو اور ان کا خاندان اپنی رہائش گاہ پر آتش زنی کی کوشش سے بچ گیا۔ علاوہ ازیں قدامت پسند سیاسی مبصر چارلی کِرک کو ستمبر میں یوٹاہ میں کیمپس کے ایک پروگرام کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔