سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان نجی شعبوں میں 270 ارب ڈالر کے معاہدے متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب نجی شعبے اور امریکی نجی شعبے کے درمیان 270 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔

یہ بات انہوں نے امریکی سعودی سرمایہ کاری فورم 2025 ءکے اجلاس کے دوران کہی جس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی شریک تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی سعودی عرب کے ساتھ شراکت دنیا میں بہترین ہے اور اپنے عروج پر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی، اہم معدنیات اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نئے معاہدے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سعودی عرب کے ساتھ توانائی کے شعبے میں اپنی شراکت کو غیر معمولی حد تک بڑھایا ہے۔

سعودی سرمایہ کاری کو ایک ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

ٹرمپ نے بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے انہیں بتایا کہ وہ امریکہ سعودی مشترکہ سرمایہ کاری کو جو گذشتہ مئی میں 600 ارب ڈالر تک پہنچی تھی اسے بڑھا کر ایک ٹریلین ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے پیش رو جو بائیڈن کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے پر عائد پابندیاں ختم کیں اور ان کی انتظامیہ نے اس شعبے کی ترقی کے لیے بے مثال سہولتیں فراہم کیں۔

فیڈرل ریزرو اور جیروم پاول پر شدید تنقید

ایک اور موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسکاٹ بیسنت کو فیڈرل ریزرو کی سربراہی کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کے طور پر کام جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے بیسنت سے کئی بار کہا کہ وہ فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول کو برطرف کریں مگر بیسنت ایسا نہیں چاہتے۔

ٹرمپ نے پاول پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود اب بھی غیر ضروری طور پر بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے فیڈرل ریزرو کی عمارت کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والی بھاری لاگت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنی بوئنگ طیارہ ساز صنعت میں دوبارہ قیادت سنبھالنے کے لیے شاندار کام کر رہی ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ وال اسٹریٹ نے گذشتہ نو مہینوں میں 46 نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ مہنگائی کی شرح جلد کم ہوگی اور اس وقت بھی وہ معمول کی حد کے اندر ہے۔

نو مہینوں میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی فراہمی

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے صدارت سنبھالنے کے بعد صرف نو مہینوں میں امریکی صنعتوں کی بحالی اور روزگار کے فروغ کے لیے 18 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جو کہ بائیڈن کی چار سالہ مدت میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی کم تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے اختتام تک سرمایہ کاری کے بہاؤ کا حجم بڑھ کر 22 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کسٹم ڈیوٹیز سے کھربوں ڈالر کما رہا ہے اور ان محصولات میں سے 2000 ڈالر کم اور متوسط آمدنی والے امریکی شہریوں کی مدد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی شہریوں کو سنہ 2026 کے جنوری میں نافذ ہونے والے "خوبصورت بڑے قانون" کی بدولت امریکہ کی تاریخ کا بہترین ٹیکس کٹوتی نظام دستیاب ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں