قیدی سے مبینہ جنسی زیادتی کی اطلاع دینے والے اسرائیلی صحافی کو دھمکیوں اور ہراسانی کاسامنا
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بدسلوکی کو 'افسوسناک' قرار دیا
اسرائیلی صحافی گائے پیلگ کو 2024 میں لیک ہونے والی ایک فوٹیج نشر کرنے کے بعد مسلسل دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ اس فوٹیج سے مبینہ طور پر Sde Teiman حراستی مرکز میں ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کا پتا چلتا ہے۔
ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کور سے حاصل کردہ ویڈیو نشر کرنے کے بعد پیلگ کو دائیں بازو کے کارکنان، سیاست دانوں اور میڈیا شخصیات نے نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی وزیر برائے ثقافتی ورثہ امیچے الیاہو نے سوشل میڈیا پر تجویز پیش کی کہ فوٹیج تقسیم کرنے پر پیلگ کو جیل بھیج دیا جائے۔
اگست 2024 میں ایک اسرائیلی نیوز چینل پر نشر کردہ فوٹیج میں دکھایا گیا کہ جنوبی اسرائیل میں Sde Teiman فوجی حراستی مرکز پر فوج کے ارکانِ مخصوصہ ایک قیدی کو ایک طرف لے گئے، پھر فسادات کی شیلڈز سے اسے گھیر لیا تاکہ کچھ نظر نہ آئے جبکہ اسے مبینہ طور پر پیٹا اور مقعد میں تیز دھار شے سے وار کیا گیا۔
وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس ویڈیو کو "خود سے ایجاد کردہ" اور "ترمیم شدہ" کہہ کر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے "ریاست اسرائیل اور اسرائیلی دفاعی افواج کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچا۔"
اس تنازعہ سے فوجیوں کے احتساب کے حوالے سے ایک شدید بحث شروع ہو گئی ہے جو فوجی ایڈوکیٹ جنرل یفات تومر-یروشلمی کے استعفیٰ پر ختم ہوئی۔
پیر کے روز ایک بیان میں امریکہ میں قائم میڈیا کے نگران ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پیلگ کے خلاف حملوں کو "افسوسناک" قرار دیا اور کہا، انتقامی کارروائیوں اور دھمکیاں دینے کے بجائے اہلکاروں کو چاہیے کہ "اپنے (صحافیوں) کی رپورٹنگ کی صلاحیت کو تحفظ فراہم کریں"۔
سی پی جے کی ریجنل ڈائریکٹر سارہ قضاۃ نے کہا، "گائے پیلگ کے خلاف دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں اور اسرائیل کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر تنقیدی رپورٹنگ شائع کرنے سے متعلق خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔"
دائیں بازو کے کارکن موردچائی ڈیوڈ دوسرے لوگوں کے ہمراہ 12 نومبر کو تل ابیب میں ایک عمارت کے باہر پیلگ کے سامنے آ گئے، ان پر طنز کیا اور گاڑی تک جانے سے روکا۔
"آپ نے دفاعی افواج کے سپاہیوں سے متعلق ویڈیو کیوں تقسیم کی؟ گائے پیلگ، دنیا میں کہیں بھی آپ کو اپنی گاڑی تک پہنچنے کے لیے ایک پولیس محافظ کی ضرورت ہو گی تاکہ کوئی آپ کو روک نہ سکے،" ڈیوڈ نے چیخ کر کہا جیسا کہ ایک آن لائن ویڈیو میں دکھایا گیا۔
قبل ازیں ایک اور واقعے میں بھی "لائنز آف دی رائٹ" کے ایک چھوٹے گروپ نے ہرزلیہ میں پیلگ کے گھر کے باہر مظاہرہ کیا جس پر پولیس نے انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا۔ چینل 12 نے بعد ازاں انہیں تا حکمِ ثانی سکیورٹی تفویض کی۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق بعد میں پولیس نے ڈیوڈ سے تفتیش کی اور انہیں 15 دن تک پیلگ سے رابطہ کرنے سے روک دیا۔ڈیوڈ کے خلاف حکومت مخالف اور قیدی معاہدے کے حامی مظاہرین پر حملہ کرنے کا ریکارڈ ہے۔
اپنے 103 ایف ایم ریڈیو شو میں اپنی پریشانی اور سخت آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے پیلگ نے خود کو درپیش دباؤ کو "بڑھتی ہوئی سیاسی انتہا پسندی" کی علامت قرار دیا۔ نیز کہا، "مسئلہ یہ ہے کہ وہ (ڈیوڈ) تنہا نہیں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں حکومت کے مرکزی وزراء کی حمایت حاصل ہے۔"
یہ واقعہ اسرائیل میں آزادی صحافت کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان پیش آیا ہے۔ آزادانہ رپورٹنگ اور فوج پر عوامی تنقید کو محدود کرنے کے سرکاری اقدام سے یہ مسئلہ مزید نمایاں ہو گیا ہے۔