بھارت : مزدور یونینوں نئے لیبر قوانین واپس نہ لینے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بھارت کی 10 بڑی مزدور یونینوں نے حکومت کی طرف سے جمعہ کے روز اعلان کردہ لیبر قوانین پر سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد حکومت نے مزدور یونینوں کے خلاف بہت دھوکہ اور فراڈ کیا ہے۔ جو درحقیقت بھارت کے عام مزدور کے خلاف ہے۔

مزدور یونینوں نے اس حکومتی فیصلے کے خلاف جاری کردہ اپنے بیان میں نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ظالمانہ قوانین کو واپس لے ورنہ بدھ کے روز پورے ملک میں مزدور سڑکوں پر ہوں گے۔

مودی حکومت نے چار ایسے قوانین کو نافذ کیا ہے جن کی پارلیمان سے منظوری پانچ سال پہلے لی گئی تھی۔ مودی حکومت کی طرف سے ان قوانین کو نافذ کرنے کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے قوانین کو سادہ بنانا چاہتی ہے ۔کیونکہ پہلے والے لی ر قوانین میں سے بہت سے قوانین برطانوی دور سے چلے آرہے ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق ان قوانین کے نفاذ سے بھارت میں سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہوگا۔ جس سے مزدوروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور انہیں تحفظ ملے گا۔

تاہم ان نئے قوانین میں سوشل سیکیورٹی قوانین شامل کیے جانے کے ساتھ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہوں کا تعین کرنے کے علاوہ متعلقہ کمپنیوں کو بآسانی مزدوروں کو نوکری سے نکالنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں مزدوروں کی یونینیں پچھلے پانچ سال سے مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں اور بارہا اپنے اپنے اداروں میں احتجاج کر چکی ہیں جس کا حکومت نے کوئی خاص اثر نہیں لیا۔ اب تقریباً پانچ سال پر پھیلی احتجاجی سرگرمیوں کے بعد 10 بڑی مزدور یونینوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کی وزارت محنت نے مزدور یونینوں کے اس بدھ کے روز ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بارے میں 'روئٹرز' کی طرف سے تبصرے کی درخواست کے باوجود کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

البتہ جون 2024 تک حکومتی نمائندوں اور وزارت کے حکام نے مزدور یونینوں کے ساتھ کئی بار اجلاس کیے ہیں اور ان کا مؤقف سنا ہے۔

نئے لیبر قوانین کے مطابق خواتین مزدوروں کو اب نائٹ شفٹ میں بھی کام کے لیے بلایا جا سکے گا۔ جبکہ 300 مزدوروں کو بیک وقت اور بغیر کسی پیشگی منظوری کے ملازمتوں سے فارغ کیا جا سکے گا۔ پہلے یہ اختیار صرف 100 مزدوروں تک موجود تھا۔

بھارت میں مختلف کاروبار سے منسلک لوگ طویل عرصے سے بھارتی فیکٹریوں کے قوانین کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ یہ کاروباری ادارے بھارت کی معیشت میں 4 ٹریلین ڈالر کنٹریبیوٹ کرتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کی 'انٹرپینورز ' کی ایسوسی ایشن نے بھی نئے قوانین پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی ' انٹرپینورز 'کی ایسوسی ایشن کے مطابق نئے قوانین سے ان کی مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور ان کے کاروباری تسلسل میں خرابی آئے گی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والی دائیں بازو کی مزدور یونین بھارتی مزدور سانگھ کا کہنا ہے تمام مزدور یونینیں اس اوور ہالنگ کی مخالف نہیں ہیں۔

اس یونین نے ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بعض قوانین کے نفاذ کے لیے مشاورت کا اہتمام کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں