حماس وفد کی غزہ معاہدے کے اگلے مرحلے اور تناؤ پر غور کے لیے قاہرہ آمد

امریکی میڈیا کے مطابق غزہ کو تقسیم کرنے اور حماس کے وجود سے خالی علاقہ قائم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں ایک وفد قاہرہ پہنچا ہے تاکہ مصر کے خفیہ ادارے کے حکام سے ملاقات کرے اور غزہ میں تصادم کے تازہ ترین حالات پر بات کرے۔

ذرائع کے مطابق وفد ثالثی نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کرے گا تاکہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور غزہ میں معاہدے کے دوسرے مرحلے پر غور کیا جا سکے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور جاری سیاسی کوششوں کا حصہ ہے، تاہم اس دوران غزہ میں جاری کشیدگی پر بھی بات کی جائے گی۔

اسی دوران ایک اور کارروائی بھی جاری ہے جو غزہ کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف لے جا رہی ہے۔امریکہ نے سیکورٹی کونسل کے حالیہ فیصلے کے مطابق امن کونسل کے قیام کی جانب اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اسرائیلی اخبار '' ہارتس'' کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن نے غزہ میں موجود اپنے فوجی مرکز میں اپنی موجودگی کم کر دی ہے، جو فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی، امداد کی ترسیل اور ہتھیار ہٹانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ قدم امن کونسل کے قیام کی تیاری ہے۔اس کارروائی کے حوالے سے مزید منصوبے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ''وال اسٹریٹ جرنل'''نے رپورٹ دی کہ غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس میں سبز علاقے میں نئی عارضی رہائشیں قائم کی جائیں گی۔

امریکی حکام کے مطابق انجینئرنگ ٹیمیں اس علاقے میں تعمیرات کے نئے منصوبے تیار کریں گی، ملبہ اور غیر پھٹنے والے گولے ہٹائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق ابھی تعمیرات شروع نہیں ہوئی، لیکن منصوبہ یہ ہے کہ ان مقامات کو متبادل محفوظ آبادی مراکز بنایا جائے جہاں رہائش، تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔منصوبے کے مطابق یہ عارضی رہائشیں اس وقت تک قائم رہیں گی، جب تک مستقل دوبارہ تعمیر کے منصوبے مکمل نہ ہوں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ سب سے ممکنہ طریقہ ہے تاکہ حماس کے اقتدار چھوڑنے تک غزہ کی تعمیر نو شروع کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں