یوکرین کی سرحدوں کوجبری تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے: یورپی رہنماؤں کا ٹرمپ کےمنصوبے پرردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گروپ آف ٹونٹی (جی 20) کے سربراہی اجلاس میں متعدد یورپی رہنماؤں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کا خیرمقدم کیا۔ تاہم انہوں نے ہفتہ کو ایک بیان میں زور دیا کہ مجوزہ منصوبے پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی منصوبے کا مسودہ جو 28 نکات پر مشتمل ہے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

فوج پر پابندیاں

یورپی رہنماؤں نے امریکی مسودے میں یوکرینی فوج پر مجوزہ پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا موقف واضح ہے کہ یوکرین کی سرحدوں کو طاقت کے زور پر تبدیل کرنے کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ یہ مشترکہ یورپی موقف اس وقت آیا ہے جب واشنگٹن اگلے ہفتے کیف پر منصوبے کا جواب دینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

تکلیف دہ رعایتیں

امریکی تجویز میں یہ بات شامل تھی کہ کیف مشرقی یوکرین میں دونباس کے علاقے کے علاوہ کریمیا سے بھی دستبردار ہو جائے اور جنوبی علاقوں خیرسون اور زاپوریجیا ، جنہیں ماسکو نے غیر قانونی طور پر ضم کرنے کا اعلان کیا تھا، میں رابطہ لائنوں کو منجمد کر دیا جائے۔ روسی افواج خارکیف کے دیگر علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اس طرح یوکرین تقریباً 2300 مربع کلومیٹر کا علاقہ روس کے حوالے کرے گا جو لگزمبرگ کے رقبے کے برابر ہے۔ یوکرین کو ڈونیٹسک کے علاقے میں تقریباً 5000 مربع کلومیٹر سے دستبردار ہونا پڑے گا تاکہ اسے بفر زون بنایا جائے اور لوہانسک میں مزید 45 مربع کلومیٹر سے دستبردار ہونا ہوگا۔

اس کے بدلے میں ماسکو اپنی افواج کو خارکیف (2000 مربع کلومیٹر)، دنیپروپیٹرووسک (450 مربع کلومیٹر)، سومی (300 مربع کلومیٹر) اور چرنیہیو (20 مربع کلومیٹر) کے کچھ حصوں سے واپس لے جائے گا۔ اس کے علاوہ منصوبے میں یہ بھی شامل تھا کہ کیف نیٹو میں شامل ہونے کی کوشش ترک کر دے اور صرف یورپی یونین میں شمولیت پر اکتفا کرے۔ وہ اپنی سرزمین پر بین الاقوامی افواج کی تعیناتی پر رضامند نہ ہو۔ اس کے علاوہ 100 دنوں کے اندر یوکرین میں انتخابات کرائے جائیں۔ تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کیف کو سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرے گا۔

اسی تناظر میں ایک امریکی عہدیدار نے وضاحت کی ہے کہ مجوزہ امن معاہدے میں واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے نیٹو کی طرح کی سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کا عہد شامل ہے جس میں یوکرین پر مستقبل کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے روسی منجمد اثاثوں میں سے 100 بلین ڈالر مختص کیے جائیں گے۔

واضح رہے یوکرین کے صدر زیلنسکی نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے وقار کے ساتھ غداری نہیں کر سکتے تاہم انہوں نے ساتھ ہی تصدیق کی کہ کیف کو ایک مشکل انتخاب کا سامنا ہے۔ زیلنسکی نے ہفتہ کو امریکی تجویز پر بات چیت کے لیے باضابطہ طور پر ایک وفد بھی تشکیل دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں