جان ایف کینیڈی (جے ایف کے) کی پوتی نے ہفتے کے روز ٹرمینل کینسر کی تشخیص کا انکشاف کیا۔ انہوں نے "دی نیویارکر" میں اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ان کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ مزید ایک سال تک ہی زندہ رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے اخبار کی تحریر میں اپنے کزن اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے سیکرٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی پالیسیوں پر تنقید کی۔
کینیڈی کی صاحبزادی کیرولین کینیڈی اور داماد ایڈون شلوسبرگ کی بیٹی تاتیانا شلوسبرگ نے کہا کہ انہیں کینسر کی تشخیص مئی 2024 میں 34 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ ان کے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد ڈاکٹر نے مشاہدہ کیا کہ ان کے خون کے سفید خلیات کی تعداد زیادہ تھی۔ یہ نایاب جینیاتی تبدیلی والا ایکیوٹ مائیلوڈ لیوکیمیا نکلا جو زیادہ تر بوڑھے لوگوں میں دیکھا جاتا ہے۔
ان کا مضمون ان کے دادا جے ایف کینیڈی کے قتل کی 62 ویں برسی پر شائع ہوا تھا۔
ماحولیاتی صحافی شلوشبرگ نے لکھا کہ وہ کیموتھراپی اور دو سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے مراحل سے گذریں جن میں سے پہلے میں ان کی بہن کے سیلز اور دوسرا میں ایک بیرونی عطیہ دہندہ کے سیلز کا استعمال کیا گیا اور کلینیکل ٹرائلز میں حصہ لیا۔ انہوں نے لکھا کہ تازہ ترین ٹرائل کے دوران ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ "وہ مجھے شاید ایک سال تک زندہ رکھ سکتے ہیں۔"
شلوشبرگ نے یہ بھی کہا کہ آر ایف کے کی حمایت یافتہ پالیسیاں ان جیسے کینسر کے مریضوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ شلوشبرگ کی والدہ کیرولین کینیڈی نے سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ آر ایف کے کی تصدیق کو مسترد کر دیں۔
"جیسا کہ میں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوششوں کرنے والے ڈاکٹر، نرسوں اور محققین کے زیرِ نگہداشت گذارا ہے تو میں نے دیکھا کہ بوبی نے ایم آر این اے ویکسینز کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کے لیے تقریباً ڈیڑھ بلین ڈالر کی کٹوتی کی۔ یہ ویکسین بعض کینسرز کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔"
شلوسبرگ نے اپنے خوف کے بارے میں لکھا کہ وہ اپنی بیٹی اور بیٹے کو یاد نہیں ہوں گی۔ وہ دھوکہ دہی اور غمگین محسوس کرتی ہے کہ وہ اپنے شوہر جارج موران کے ہمراہ جو "خوبصورت اور شاندار زندگی" گذار رہی تھیں، وہ نہیں گذار سکیں گی۔ اگرچہ ان کے والدین اور بہن بھائی ان سے اپنا درد چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اسے ہر روز محسوس کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، "اپنی پوری زندگی میں میں نے اچھا بننے، ایک اچھی طالبہ، اچھی بہن اور اچھی بیٹی بننے کی کوشش کی ہے اور یہ کہ اپنی ماں کی حفاظت کروں اور انہیں کبھی پریشان یا ناراض نہ کروں۔ اب میں نے ان کی زندگی میں، اپنے خاندان کی زندگی میں ایک نیا المیہ شامل کر دیا ہے اور میں اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔"