حالیہ عرصے میں حوثیوں نے یمن میں سیاسی گرفتاریوں کی سب سے بڑی مہم چلائی : ہیومن رائٹس واچ

کچھ گرفتاریاں قانونی جواز کے بغیر کی گئیں اور یہ اس حد تک جا سکتی ہیں کہ زبردستی لا پتا کرنے کے زمرے میں آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں حوثی ملیشیا نے جولائی 2025 سے سیاسی مخالفین اور شہری شخصیات کے خلاف گرفتاریوں کی مہم میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض گرفتاریاں قانونی جواز کے بغیر کی گئیں اور کچھ تو زبردستی لا پتا کرنے کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔

تنظیم نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حوثیوں نے ذمار صوبے میں سب سے بڑی گرفتاری انجام دی جہاں 28 اکتوبر کو صرف ایک دن میں کم از کم 70 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ یہ تمام افراد الاصلاح پارٹی کے ساتھ وابستہ تھے۔ اس کے بعد مذکورہ پارٹی سے متعلق گرفتار شدگان کی مجموعی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی۔ یہ بات الاصلاح پارٹی کی فراہم کردہ معلومات میں بتائی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ گرفتاریوں کی مہم پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران کی کارروائیوں میں توسیع ہے۔ اس میں شہری کارکنان، اقوام متحدہ کے اہل کار، انسانی حقوق کی تنظیمیں، کاروباری حضرات اور حتیٰ کہ حوثیوں کے زیر انتظام اداروں کے کچھ ملازمین بھی شامل تھے۔

تنظیم کے مطابق اقوام متحدہ کے 59 ملازمین اب بھی حراست میں ہیں اور انہیں وکلاء سے ملاقات یا اپنے خاندانوں سے مناسب رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اس بات کی تصدیق کی کہ حوثیوں نے حال ہی میں گرفتار افراد پر "بلا ثبوت" جاسوسی کے الزامات عائد کرنے میں شدت پیدا کی ہے۔ ان میں 21 افراد ایسے شامل ہیں جن پر مقدمات کو ہیومن رائٹس نے "نا انصافی" قرار دیا اور ان میں سے 17 پر سزائے موت سنائی گئی۔

تنظیم نے سیاسی جماعتوں کے کئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کی بھی دستاویزات فراہم کیں، جن میں 3 اگست کو البعث عرب سوشلسٹ پارٹی کے رامی عبد الوہاب، 20 اگست کو جنرل پیپلز کانگریس کے سیکریٹری جنرل غازی الاحول اور 25 ستمبر کو یمنی سوشلسٹ پارٹی کے عاید الصیادی شامل ہیں۔

رپورٹ میں گرفتار افراد کے اہل خانہ کے بیانات بھی درج ہیں، جنہوں نے بتایا کہ ان کے رشتہ دار مسلح نقاب پوش افراد کے ہاتھوں اغوا ہوئے۔ یہ گرفتاریاں بنا وارنٹ کے اور بنا حراست کی جگہ بتائے عمل میں آئیں۔ اس کے باعث خاندانوں کو ان کے مستقبل یا عائد کردہ الزامات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

تنظیم نے پچھلی انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی رپورٹوں کی بنیاد پر بتایا کہ حوثی عموماً گرفتار شدگان پر تشدد کرتے اور زبردستی اقرار نامے حاصل کرتے ہیں، حالانکہ یمنی قانون کے مطابق جبراً حاصل کیے گئے اقرار نامے کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس واچ میں یمن اور بحرین کے امور کی محقق نیکو جعفرنیا نے کہا کہ یہ جماعت "ہر اس شخص کو جو ممکنہ دشمن نظر آتا ہے، غیر قانونی گرفتاری کا ہدف سمجھتی ہے" ... مزید یہ کہ تمام سیاسی بنیادوں یا پرامن سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

تنظیم نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ بلا جواز حراست میں موجود تمام افراد، بشمول صحافیوں، وکلاء، اقوام متحدہ کے اہل کاروں اور 26 ستمبر کی "انقلاب کی یاد منانے" پر گرفتار افراد کو رہا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں