بھارت کا تمام سمارٹ فونز پر سرکاری 'سائبر سکیورٹی' ایپ پری انسٹال کرنے کا حکم

وزارت برائے ٹیلی مواصلات نئے پرانے تمام سمارٹ فون ماڈلز پر ایپ کی انسٹالیشن چاہتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک حکومتی حکم کے مطابق بھارت کی وزارت برائے ٹیلی مواصلات نے سمارٹ فون تیارکنندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام نئے آلات پر حکومت کے زیرِ انتظام سائبر سکیورٹی ایپ کو پری انسٹال کریں۔ اس اقدام سے دنیا کی ایک سب سے بڑی ہینڈ سیٹ مارکیٹ میں ڈیٹا کی رازداری اور صارف کی رضامندی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

پیر کو جاری کردہ وزارتِ مواصلات کے حکم نامے میں سمارٹ فون بنانے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 90 دنوں کے اندر حکومت کی "سنچار ساتھی" ایپ کو تمام نئے آلات پر پہلے سے انسٹال کریں اور صارفین کو اسے ڈیلیٹ کرنے سے روکیں۔ حکم میں تیارکنندگان سے یہ بھی تقاضہ کیا گیا ہے کہ وہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے ایپ کو پرانے ماڈلز پر بھی انسٹال کریں۔ اس طرح یہ حکومتی اختیار صرف مارکیٹ میں دستیاب نئے فونز تک محدود نہیں رہتا۔

بھارت کے 1.2 بلین سمارٹ فون صارفین کے لیے دستیاب ایپ کے بارے میں وزارت نے کہا، یہ "سائبر فراڈ کے لیے ٹیلی کام وسائل کے غلط استعمال کو روکنے اور ٹیلی کام سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔" لیکن رازداری کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس حکم سے صارف کی رازداری اور رضامندی ختم کرنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔

ڈیجیٹل پالیسی کے ماہر اور ٹیک سائٹ میڈیانامہ کے بانی نکھل پاہوا نے کہا، "یہ ابتدا ہے۔ اس سے حکومت آزمائشی جانچ کر رہی ہے۔ ایک بار جب کوئی سرکاری ایپ ہمارے آلات پر زبردستی پری انسٹال ہو جائے تو انہیں مستقبل میں ایسی ایپس انسٹال کرنے سے کیسے روکا جائے جو نگرانی کے لیے استعمال ہو سکیں؟"

جنوری میں جاری کردہ "سنچار ساتھی" ایپ اس لیے ڈیزائن کی گئی تاکہ صارفین گمشدہ یا چوری شدہ فونز کو بلاک اور ٹریک اور جعلی موبائل کنکشن کی شناخت اور اسے بند کر سکیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپنے آغاز کے بعد سے اسے پانچ ملین سے زیادہ افراد نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اور 700,000 سے زیادہ گمشدہ آلات کی بازیافت میں اس سے مدد ملی ہے۔

پاہوا نے کہا کہ بنیادی تشویش یہ ہے کہ ایپ کا کردار آخرِ کار وسعت اختیار کر سکتا ہے جس سے حکام کو "موبائل آلے کی حیثیت تک رسائی" کی زیادہ صلاحیت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکم میں صارف کی رضامندی شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "فون ہماری ذاتی اشیاء ہیں۔ ہمارے پاس اختیار ہے کہ ہم ان پر کیا چاہتے ہیں۔ یہاں حکومت اس انتخاب کا حق چھین رہی ہے۔"

اس حکم کے خلاف امریکہ میں مقیم ایپل جیسی سمارٹ فون کمپنیوں کی طرف سے مزاحمت کا امکان ہے جن کی داخلی پالیسیاں اپنے آلات پر تھرڈ پارٹی بشمول حکومتوں کی تیار کردہ ایپس کو پری انسٹال کرنے سے روکتی ہیں۔

یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب متعدد حکومتیں ایسے ہی اقدامات کر رہی ہیں۔

روس میں حکام نے حال ہی میں پیغام رسانی کی سروس میکس کو فروغ دیا ہے جو تمام سمارٹ فونز پر پہلے سے انسٹال ہونا ضروری ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ پلیٹ فارم نگرانی کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ میکس واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ درخواست کرنے پر حکام کو صارف کا ڈیٹا فراہم کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں