سٹریمنگ کی بڑی کمپنی نیٹ فلکس نے جمعے کو کہا کہ وہ فلم اور ٹیلی ویژن سٹوڈیو ’وارنر برادرز ڈسکوری‘ کو تقریباً 83 ارب ڈالر میں خریدے گی، جو تفریحی صنعت کا اس دہائی کا سب سے بڑا سودا ہے۔
نیٹ فلکس ٹی وی نے فلم گروپ وارنر برادرز ڈسکوری کو خریدنے کے لیے چوٹی کے بولی دہندہ کے طور پر 28 ڈالر فی شیئر کی قیمت لگائی ہے۔ اس خریداری سے نیٹ فلکس کو فلموں کے وسیع ذخیرے کے ساتھ ساتھ نیٹ فلکس کو ’ایچ بی او میکس‘ تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔
وارنر برادر کی تاریخ سو سال سے پرانی ہے اور اس دوران انہوں نے ’کاسابلانکا‘ اور ’سٹیزن کین‘ جیسی کلاسک فلمیں تیار کی ہیں، ساتھ ہی حالیہ بلاک بسٹر شوز جیسے ’دا سوپرینوز‘، ’گیم آف تھرونز‘ اور ’ہیری پوٹر‘ سیریز کی فلمیں بھی بنائی ہیں۔
ایچ بی او، سی این این اور وارنر برادرز فلم سٹوڈیو کے زیادہ تر حصص کی مالک کمپنی نے متعدد غیر مطلوب پیشکشیں موصول ہونے کے بعد اکتوبر میں باضابطہ طور پر خود کو فروخت کے لیے پیش کر دیا۔ اس طرح طے شدہ دو الگ الگ اداروں کو یکجا کر دیا گیا جن میں سے ایک سٹریمنگ اور سٹوڈیوز پر مرکوز ہے اور دوسرا روایتی کیبل نیٹ ورکس پر۔
وارنر برادرز ڈسکوری پر اصل میں پیراماؤنٹ کی نظر تھی جو حال ہی میں دنیا کے ایک امیر ترین شخص اور اوریکل کے بانی لیری ایلیسن کے ارب پتی خاندان نے حاصل کیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق این بی سی یونیورسل کے مالک کام کاسٹ اور پیراماؤنٹ سکائی ڈانس کے ساتھ نیٹ فلکس نے ایک نیلامی کے دوسرے دور میں شمولیت اختیار کی جس پر امریکہ میں تھینکس گیونگ (یومِ تشکر) کی تعطیلات میں مذاکرات جاری رہے۔
سی این این نے ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ پیراماؤنٹ نے جمعرات کو 27 ڈالر فی شیئر کے قریب بولی بھی جمع کرائی۔
کمپنی کے ٹی وی اور فلم سٹوڈیوز اور سٹریمنگ سروس ایچ بی او میکس کے سودے کے لیے نیٹ فلکس اور وارنر برادرز ڈسکوری خصوصی مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو گئے جس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں، بلومبرگ نے جمعرات کو اطلاع دی۔
بلومبرگ کے بیان کردہ ذرائع کے مطابق نیٹ فلکس اپنے ممکنہ حصول کی مالی اعانت کی غرض سے مجموعی طور پر دسیوں ارب ڈالر کا مختصر مدتی قرض حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ عالمی سطح پر 280 ملین سے زیادہ صارفین کے ساتھ نیٹ فلیکس دنیا کی سب سے بڑی سٹریمنگ سروس ہے۔
اس معاہدے سے نیٹ فلیکس کی پہلے ہی مواد تخلیق کرنے کی خاطرخواہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور ایچ بی او اور وارنر برادرز سٹوڈیوز جیسے اعلیٰ ترین اثاثہ جات محفوظ ہو جائیں گے۔
ممکنہ طور پر اسے امریکہ اور دیگر بڑی منڈیوں میں قانون نافذ کرنے والے حکام کی طرف سے سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہو گا۔
ہالی ووڈ کی سرکردہ کمپنیوں نے وارنر برادرز کے نیٹ فلیکس کے ہاتھ میں نہ جانے کے لیے اپنی ترجیح کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس خدشے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ سٹریمنگ کمپنی بہت حد تک اپنی فلمی پروڈکشنز کی تھیٹر ریلیز کو محدود کرنا چاہتی ہے۔
"ٹائٹینک" فلم کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون نے حال ہی میں پوڈ کاسٹ "دی ٹاؤن" کو بتایا کہ وارنر برادرز کا نیٹ فلکس کی عملداری میں چلے جانا "ایک تباہی" ہو گا۔
نیٹ فلکس اور وارنر برادرز ڈسکوری نے تبصرے کے لیے اے ایف پی کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔