نیوزی لینڈ ... چور کی جانب سے نگلا گیا 'جیمز بونڈ لاکٹ' واپس مل گیا

پولیس نے چھ روز تک ملزم کے آنتوں کی حرکت کی مسلسل نگرانی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیو زیلینڈ کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وہ قیمتی لاکٹ برآمد کر لیا ہے جسے ایک شخص نے زیورات کی دکان سے چوری کرنے کے بعد مبینہ طور پر نگل لیا تھا۔ پولیس نے اس کی آنتوں کی ہر حرکت کو چھ دن تک مانیٹر کرنے کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔

پولیس کے ترجمان نے آج جمعے کے روز بتایا کہ 33 ہزار کیوی ڈالر (19 ہزار امریکی ڈالر) مالیت کا یہ لاکٹ جمعرات کی شام قدرتی طور پر مذکورہ شخص کے جسم سے خارج ہوا اور اس کے لیے کسی طبی مداخلت کی ضرورت پیش نہ آئی۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ لاکٹ اور وہ شخص دونوں فی الحال پولیس کی تحویل میں ہیں۔

پولیس کی طرف سے جاری ایک تصویر میں ایک دستانہ پہنا ہوا ہاتھ دکھایا گیا ہے جو برآمد شدہ لاکٹ پکڑے ہوئے ہے۔ لاکٹ اب بھی اپنی لمبی سنہری چین اور اصل قیمت کی پرچی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

پولیس نے اپنی حراست میں موجود32 سالہ ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے 28 نومبر کو آک لینڈ شہر میں واقع بارٹریج جیولرز نامی دکان سے جواہرات جڑا ہوا آکٹوپس ڈیزائن والا لاکٹ نگل لیا تھا۔ پولیس نے اسے واقعے کے چند ہی منٹ بعد اس شخص کو دکان کے اندر سے گرفتار کر لیا تھا۔ یہ بات ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی نے بتائی۔

ملزم کو 29 نومبر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اب وہ 8 دسمبر کو دوبارہ آک لینڈ کے ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس دوران پولیس اہل کار مسلسل نگرانی کرتے رہے تاکہ ’’ثبوت‘‘ برآمد ہو سکے۔

چوری کیا گیا لاکٹ دراصل فابرژے انڈے کے محدود ایڈیشن پر مبنی ایک ڈیزائن تھا اور اسے 1983 کی جیمز بونڈ فلم "اوکٹوپسی" سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔ اس فلم کی کہانی کا ایک بڑا حصہ جعلی فابرژے انڈے کے ذریعے زیورات کی اسمگلنگ کے گرد گھومتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں