کیوبا نے سابق وزیرِ اقتصادیات کو جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی
رشوت اور جعلسازی کے جرائم میں بھی 20 سال کی مزید قید
کیوبا کی اعلیٰ عدالت نے پیر کے روز کہا کہ ملک کے سابق وزیرِ اقتصادیات کو جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی جو جزیرہ نما ملک میں حالیہ برسوں میں ایک سابق اہلکار کے خلاف اعلیٰ ترین سطح کا مقدمہ ہے۔
سپریم پاپولر ٹربیونل نے ایک بیان میں کہا کہ سابق وزیرِ اقتصادیات الیجینڈرو گِل فرنانڈیز رشوت، دستاویزات میں جعل سازی اور ٹیکس چوری سمیت دیگر جرائم کے ایک الگ مقدمے میں قصوروار پائے گئے جس کے بعد انہیں 20 سال قید کی دوسری سزا بھی سنائی گئی۔
گِل 2018 سے 2024 تک وزیرِ اقتصادیات رہے اور عہدے سے ہٹائے جانے تک صدر میگوئل ڈیاز کینیل کے ایک قریبی ساتھی تھے۔ 2019 میں انہیں نائب وزیرِ اعظم بھی مقرر کیا گیا۔
برطرفی کے ہفتوں بعد کیوبا کے رہنما نے کہا کہ گل نے "سنگین غلطیاں" کی ہیں اور بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی لیکن کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
کیوبا کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں کہ سابق وزیر نے دراصل کیا کیا تھا یا وہ کس کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس سابق وزیر یا ان کی نمائندگی کرنے والے کسی وکیل سے رابطہ کرنے سے قاصر تھا۔
اس وقت کے نائب صدر کارلوس لیگ اور وزیرِ خارجہ فیلیپ پیریز روک کو 2009 میں برطرف کر دیا گیا جس کے بعد سے اپنا مقام کھو دینے والے افسران میں گِل کا مقدمہ نہایت اعلیٰ سطحی ہے۔ ان افراد کے کیس میں حساس معلومات کا انکشاف شامل تھا حالانکہ انہیں سزا نہیں سنائی گئی تھی۔
گِل کیوبا میں 2021 میں بڑی مالیاتی اور اقتصادی اصلاحات کے نمائندہ تھے جن میں ملک کے کرنسی نظام کو متحد کرنے کی کوشش بھی شامل تھی۔ لیکن پہلے ہی معاشی بحران اور بعض مصنوعات کی قلت سے متأثرہ کیوبا کو افراطِ زر کی لہر کا سامنا رہا۔
اعلیٰ ترین عدالت نے کہا کہ گِل نے ذاتی فائدے کے لیے "تفویض کردہ اختیارات کا غلط استعمال کیا" اور "غیر ملکی فرمز سے رقم وصول کی اور دوسرے اہلکاروں کو رشوت دی۔"