آسٹریلیا میں نئی مثال قائم، 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی
خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر جرمانہ 33 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے
آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی بدھ کی نصف شب (00 :13گرینچ Mean Time) سے نافذ ہوگئی، جس کے بعد آسٹریلیا اس طرح کا قدم اٹھانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔اس پابندی میں ٹک ٹاک، یوٹیوب (الفابیٹ کی ملکیت) اور انسٹاگرام و فیس بک (میٹا کی ملکیت) جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
حکام نے ملک کی دس بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حکم دیا ہے کہ وہ بچوں کی رسائی فوری طور پر بند کریں، ورنہ نئے قانون کے تحت ان پر 5 اعشاریہ 49ملین آسٹریلوی ڈالر (33 ملین امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس قانون پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادیِ اظہار کے کارکنوں نے تنقید کی ہے، جبکہ والدین اور بچوں کے تحفظ کے حامیوں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے، جیسا کہ "رائٹرز" نے رپورٹ کیا۔دیگر ممالک بھی اس پابندی کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ وہ عمر پر مبنی اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، بالخصوص اس بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر کہ سوشل میڈیا بچوں کی صحت اور امنیت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ فیصلہ ایک سال سے جاری ان قیاس آرائیوں کو ختم کرتا ہے کہ آیا ایسے بچوں پر پابندی ممکن ہے یا نہیں، جو ایسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جو اب جدید زندگی کا بنیادی حصہ بن چکی ہے۔
یہ اقدام ایک لائیو تجربے کی بھی نمائندگی کرتا ہے ،جسے دنیا بھر کے قانون ساز قریب سے دیکھیں گے، کیونکہ وہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کی جانب سے مؤثر حفاظتی اقدامات کے نفاذ میں سست روی سے مایوس ہو چکے ہیں اور اب براہِ راست مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔
ڈنمارک سے ملائیشیا تک اور یہاں تک کہ کچھ امریکی ریاستوں میں بھی جہاں پلیٹ فارمز اعتماد اور حفاظت کی خصوصیات کم کر رہے ہیں،حکومتیں اسی طرح کے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس رجحان نے زور اس وقت پکڑا جب چار سال پہلے میٹا کی اندرونی دستاویزات لیک ہوئیں ،جن میں انکشاف ہوا کہ کمپنی جانتی تھی کہ اس کی مصنوعات نوجوانوں میں جسمانی ساخت کے مسائل اور خودکشی کے خیالات کو بڑھا رہی ہیں، باوجود اس کے کہ وہ عوامی طور پر اس تعلق سے انکار کرتی رہی۔
ابتداءِ اختتام
اگرچہ پابندی کا اطلاق شروع میں صرف 10 پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی نئی مصنوعات سامنے آئیں گی اور نوجوان صارفین متبادل پلیٹ فارمز کی طرف جائیں گے، فہرست میں تبدیلی کی جاتی رہے گی۔
ان دس بڑے پلیٹ فارمز میں سے، ایلون مسک کی کمپنی "ایکس" کے علاوہ باقی سب نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں گے۔ عمل درآمد کے لیے وہ عمر کے اندازے (یعنی صارف کی آن لائن سرگرمی سے اس کی عمر کا تخمینہ) یا چہرے کی تصویر پر مبنی عمر کی تشخیص جیسے طریقے استعمال کریں گے۔
پلیٹ فارمز شناختی دستاویزات کی اپ لوڈنگ یا بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کے ذریعے بھی عمر کی تصدیق کر سکیں گے۔سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے، اس پابندی کا نفاذ ساختی جمود کے ایک نئے دور کی شروعات ہے، کیونکہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کی تعداد تقریباً ایک حد پر آ چکی ہے اور ان کے پلیٹ فارمز پر گزارے جانے والے وقت میں بھی کمی آرہی ہے۔
پلیٹ فارمز کا کہنا ہے کہ 16 سال سے کم عمر صارفین کو اشتہارات دکھا کر وہ کوئی خاص منافع حاصل نہیں کرتے، لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پابندی مستقبل میں آنے والے صارفین کے بہاؤ کو متاثر کرے گی۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پابندی کے نافذ ہونے سے فوراً پہلے 8 سے 15 سال کی عمر کے 86 فیصد آسٹریلوی بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے۔