آسٹریا سکولوں میں اسلامی حجاب پر پابندی کے قانون پر رائے شماری کرے گا

پابندی کو مذہبی اور انسانی حقوق کی خلاف وزری قرار دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

جمعرات کو آسٹریا کے قانون سازوں کے ایک قانون منظور کرنے کی توقع ہے جو 14 سال سے کم عمر بچیوں کے سکولوں میں اسلامی حجاب پر پابندی عائد کرتا ہے۔ یہ اقدام انسانی حقوق کے گروپوں اور ماہرین کی نگاہ میں امتیازی ہے اور یہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

قدامت پسند جماعت کے زیرِ قیادت آسٹریا کی حکومت نے اس سال کے شروع میں پابندی کی تجویز پیش کی تھی اور وہ اس وقت شدید امیگریشن مخالف جذبات کے دباؤ میں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ لڑکیوں کو "ظلم سے" بچانے کے لیے ہے۔

جب ملک میں 2019 میں پرائمری سکولوں میں حجاب پر پابندی متعارف کروائی گئی تو آئینی عدالت نے اسے غیر آئینی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا تھا۔ تاہم اس بار حکومت کا اصرار ہے کہ اس کا قانون آئینی ہے۔

منظوری کی صورت میں یہ قانون تمام سکولوں میں 14 سال سے کم عمر بچیوں کو سر پر حجاب پہننے سے روک دے گا جو "اسلامی روایات کے مطابق سر ڈھانپنے کا طریقہ ہے"۔

انٹیگریشن کی وزیر کلاڈیا پلاکولم نے بل پیش کرتے ہوئے کہا، "جب کسی لڑکی کو یہ کہا جاتا ہے کہ اسے مردوں کی نظروں سے بچانے کے لیے اپنا جسم چھپانا چاہیے تو یہ کوئی مذہبی رسم نہیں بلکہ ظلم ہے۔"

پلاکولم نے کہا کہ اس پابندی کا اطلاق حجاب اور برقع سمیت اسلامی نقاب کی "تمام صورتوں" پر ہوتا ہے جو ستمبر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا۔

فروری سے اس کے لیے ایک ابتدائی مدت شروع ہو گی جس کے دوران ماہرینِ تعلیم، والدین اور بچوں کو نئے قوانین کی وضاحت کی جائے گی جن کی خلاف ورزی پر کوئی جرمانہ نہیں ہو گا۔

لیکن بار بار عدم تعمیل پر والدین کو 150 سے 800 یورو (175-930 ڈالر) تک کے جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا۔

حکومت نے کہا کہ نئے قانون سے تقریباً 12,000 بچیاں متأثر ہوں گی۔ یہ اعداد و شمار 2019 کی ایک تحقیق پر مبنی ہیں جس کے مطابق 14 سال سے کم عمر کی تقریباً 3,000 بچیاں چھے سال قبل سر پر حجاب پہنتی تھیں۔

'بدنامی کا داغ'

ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریا سمیت حقوق کی تنظیموں نے اس بل پر تنقید کی ہے۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ یہ "مسلم بچیوں کے خلاف صریح امتیازی سلوک" ہے اور اسے "مسلم مخالف نسل پرستی کا اظہار" قرار دیا ہے۔

گروپ نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے "مسلمانوں کے خلاف موجودہ تعصبات اور دقیانوسی تصورات کو تقویت ملنے" کا خدشہ ہے۔

مسودہ قانون پر آئی جی جی او ای نے بھی تنقید کی ہے جو ملک کے مسلم طبقے کی باضابطہ نمائندگی کرنے والا ادارہ ہے۔

اس نے کہا، یہ پابندی "سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرے کا باعث ہے" اور "بچوں کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں بدنامی سے داغدار اور معاشرتی دھارے سے الگ کر دیا گیا ہے۔"

خواتین کے حقوق کی انجمن ایمازون کی منیجنگ ڈائریکٹر انجلیکا اٹزنگر نے کہا، حجاب پر پابندی "لڑکیوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ان کے جسم کے بارے میں فیصلے ہو رہے ہیں اور یہ کہ یہ جائز ہے۔"

نسل پرست مخالف گروپ SOS Mitmensch کے شائع کردہ ایک بیان میں ان کا تبصرہ سامنے آیا۔ یہ گروپ مجوزہ قانون کی بھی مخالفت کرتا ہے۔

آسٹریا کی امیگریشن مخالف اور انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی (ایف پی او ای) نے کہا کہ پابندی کا اطلاق کافی حد تک نہیں ہوا۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسے تمام طلباء، اساتذہ اور دیگر عملے تک وسعت دی جائے۔ مذکورہ پارٹی نے گذشتہ سال کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی لیکن حکومت بنانے میں ناکام رہی تھی۔

حکومتی اتحاد نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ نظرِ ثانی شدہ پابندی دوسری بار نہیں ہٹائی جائے گی۔

اس نے استدلال کیا، اگر کسی بچے کے اُن حقوق کی خلاف ورزی ہو جو آئین میں درج ہیں تو قانون ایسی پابندیاں فراہم کرتا ہے۔

لیکن آئینی قانون کے ماہر ہینز مائر نے اس پابندی کی آئینی حیثیت پر شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے 2020 میں سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ یاد دلایا جس میں یہ سامنے آیا کہ "ایک مذہب سے امتیازی سلوک کیا جا رہا تھا۔"

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ "اگر حجاب ظلم کی علامت ہے" تو پابندی بچوں کو "ایک پریشان کن صورتِ حال" سے دوچار کر دیتی ہے لیکن ان لوگوں کو نہیں جو اِسے اُن پر مسلط کرتے ہیں۔

فرانس میں ملک کے سیکولر قوانین جو ریاستی اداروں میں غیر جانبداری کی ضمانت دینے کے لیے ہیں، ان کی بنیاد پر حکام نے 2004 میں سکول کے بچوں پر "ایسی علامات یا لباس پہننے پر پابندی لگا دی تھی جن سے طالبِ علم کی مذہبی وابستگی ظاہر ہو" مثلاً حجاب، دستار یا یہودیوں کی مخصوص چھوٹی ٹوپی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں