حماس طویل المدت جنگ بندی کے بدلے ہتھیاروں سے مشروط دست کشی پر آمادہ : خالد مشعل

ٹرمپ : میں آنے والے سال کے آغاز پر غزہ میں امن کونسل کے شرکاء کے نام اعلان کروں گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

فلسطینی مزاحمتی تنظیم "حماس" کے پولٹ بیورو کے سینئر رہنما خالد مشعل نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت اسلحہ سے مشروط دست کشی کے لیے تیار ہے، جس کے بدلے اسرائیل کے ساتھ طویل المدت جنگ بندی ممکن ہو گی۔

مشعل نے بدھ کو ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ حماس غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر بین الاقوامی فوجی تعینات کرنے کو قبول کرتی ہے، مگر یہ فوج غزہ کے اندر نہیں ہو گی۔

حماس کے غزہ میں ہتھیاروں سے دست کشی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مشعل نے کہا: ہم اس موضوع پر ایک ایسی تصور چاہتے ہیں جس میں یہ ضمانت ہو کہ اسرائیلی قبضے کی جنگ دوبارہ غزہ پر نہیں ہو گی۔ ہم یہ کر سکتے ہیں، ہتھیار محفوظ رہیں، استعمال نہ ہوں اور نمائش کے لیے بھی نہ ہوں۔ اس وقت ہم نے طویل المدت جنگ بندی کی تجویز دی ہے تاکہ یہ حقیقی ضمانت بنے۔

مشعل نے کہا: فلسطینی قضیئے کے حل کے بغیر ہتھیاروں سے دست کشی اس کاز کی روح نکالنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے مزید کہا: آئیں ہم مقصد کو کسی اور طریقے سے حاصل کریں۔ یہی فلسفہ ہے جس پر ثالثوں کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عملی ذہن بھی اس پر متفق ہو سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منصوبہ بندی کے تحت بین الاقوامی استحکام کی فوج کے بارے میں مشعل نے کہا: استحکام کی فوج کے فلسفے کو ہم صرف ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہیں، وہ یہ کہ یہ سرحد پر موجود ہو تاکہ جھڑپوں سے بچاؤ ہو، یہی اس کا اصل کام ہے کہ امن قائم رہے۔ غزہ کے اندر بین الاقوامی فوج کی موجودگی، فلسطینی ثقافت اور ذہنیت میں قبضے کی فوج کے مترادف ہے۔

مشعل نے کہا کہ وہ ثالث جو 10 اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی میں مددگار تھے، جیسے قطر، مصر، ترکی اور دیگر عرب و اسلامی ممالک، غزہ اور حماس و مزاحمتی قوتوں کی حفاظت کر سکتے ہیں تاکہ غزہ کے اندر سے اسرائیل کے خلاف کوئی عسکری کارروائی نہ ہو، مگر ان کا کہنا تھا کہ اصل خطرہ اسرائیل کی طرف سے ہے۔

آئندہ برس غزہ میں امن کونسل کا اعلان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ آنے والے سال کے آغاز میں وہ ان عالمی رہنماؤں کے ناموں کا اعلان کریں گے، جو غزہ میں امن کونسل میں شریک ہوں گے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے روز ویلٹ ہال میں اقتصادی تقریب کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ متعدد رہنما کونسل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ یہ کونسل غزہ پلان کے تحت قائم کی گئی تھی، جس کے ذریعے اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں یہ طے پایا کہ:حماس اور اسرائیل کے درمیان فوجی کارروائیاں بند کی جائیں، غزہ میں قید شدہ یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہو،اسرائیلی فوج شہری علاقوں سے واپس چلے جائے،انسانی اور امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے۔

اسرائیل اب بھی غزہ میں تلاش کیے جانے والے آخری یرغمالی کی لاش کے منتظر ہے۔اس کے بعد معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت شروع ہونے کی توقع ہے، جس میں شامل ہے:حماس کے ہتھیار ہٹانا،جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام،روزمرہ کے امور کے انتظام کے لیےٹیکنوکریٹ کمیٹی کا قیام،یہ سب کچھ "امن کونسل" کے زیر نگرانی ہوگا، جس کی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کرنے والے ہیں۔

لنبی چیک پوسٹ دوبارہ کھول دی گئی

ادھر اسرائیل نے اردن اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان واقع لنبی (کنگ حسین برج) سرحدی راہداری گذشتہ روز دوبارہ کھول دی تاکہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی ٹرک گزر سکیں۔ یہ امر کی اطلاع اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے اے ایف پی کو دی۔

اسرائیل نے یہ گزرگاہ ستمبر میں ایک اردنی ڈرائیور نے سرحد پر فائرنگ کے بعد بند کر دی تھی۔ فائرنگ سے اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ چند دن بعد اس گزرگاہ کو پیدل کراسنگ کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا، لیکن ٹرکوں کے ذریعے غزہ جانے والی انسانی امداد کے لیے یہ گذرگاہ بند رہی، جسے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے تباہ کر دیا تھا۔

اسرائیلی حکومت کی فلسطینی علاقوں میں سرگرمیوں کی کوارڈی نیشن کی ذمہ دار کوغات یونٹ کے ایک ترجمان نے کہا: لنبی گزرگاہ آج کھول دی گئی ہے اور ٹرک غزہ جا رہے ہیں۔

ایک فلسطینی اہلکار نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر گزرگاہ کے کھلنے کی تصدیق کی۔کل منگل کو 96 ٹرک جو سیمنٹ کی پیداوار کے لیے سامان لے کر آئے تھے، گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ بدھ کو 20 ٹرک انسانی امداد کے ساتھ غزہ پہنچے اور جمعرات کو دوسرے تعمیراتی سامان کی آمد متوقع ہے۔

گذرگاہ بند ہونے کے بعد اردنی حکام نے کہا کہ انہوں نے شیخ حسین گزرگاہ کے ذریعے غزہ میں امداد پہنچانے کا انتظام کیا ہے، جو مغربی کنارے کے شمال میں واقع ہے۔

منگل کو ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ لنبی گزرگاہ کے ذریعے اردن سے سامان کی ترسیل جلد دوبارہ شروع ہوگی، اور مزید کہا:غزہ کے لیے جانے والے تمام امدادی ٹرکوں کی محفوظ نگرانی اور حفاظتی اسکواڈ کے ساتھ روانگی ہوگی۔ تمام ٹرکوں اور اردنی ڈرائیوروں کی تفصیلی سکیورٹی جانچ کی جائے گی اور گزرگاہ کی حفاظت کے لیے خصوصی حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

یہ گزرگاہ گور اردن میں واقع ہے اور یہ واحد راستہ ہے جو فلسطینیوں کو مغربی کنارے سے اسرائیلی زمین کے بغیر نکلنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو اپنے ہوائی اڈوں سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، سوائے ان کے جو خصوصی اجازت نامہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں