امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ غزہ کی پٹی کے معاملے پر ایک بڑا کام کر رہا ہے اور امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے۔ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کو عظیم قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کی شام صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ غزہ کے معاملے پر بھرپور کام کر رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی امن موجود ہے، جس کی حمایت 59 ممالک کر رہے ہیں اور یہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک حماس یا لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے مداخلت کرنا چاہتے ہیں، لیکن فی الحال اس کی ضرورت نہیں ... اور بعض ممالک نے مکمل طور پر مداخلت کی پیشکش بھی کی ہے۔
ٹرمپ نے واشنگٹن میں العربیہ اور الحدث کے نمائندے کے سوال پر کہا کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک عظیم امن قائم کیا ہے اور یہ امن پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ غزہ کے لیے امن کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کی خاموش منصوبہ بندی جاری ہے تاکہ مستقل اور پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے۔ لیوٹ نے کہا کہ مذاکرات کار اور میدان میں کام کرنے والی ٹیمیں سوچ بچار کے بعد اس پر پیش رفت کریں گی، کیونکہ غزہ اور فلسطینی علاقوں میں امن کا حصول ستر سالوں سے متوقع ہے۔
اسی دوران اسرائیلی ویب سائٹ یدیعوت آحرونوت نے بتایا کہ تل ابیب نے امریکی درخواست پر غزہ کی پٹی سے ملبہ ہٹانے کے اخراجات ادا کرنے اور اس بھاری انجینیئرنگ آپریشن کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اس سے قبل 'وال اسٹریٹ جرنل' نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بتایا تھا کہ غزہ میں تقریباً 6.8 کروڑ ٹن ملبہ موجود ہے، کیونکہ زیادہ تر عمارتیں تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں۔ ملبہ ہٹانے کا عمل بہترین حالات میں پانچ سال لے سکتا ہے، جس کی متوقع لاگت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس کام کے آغاز کے لیے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک علاقے کو خالی کیا جائے گا۔