میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے منگل کو امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس نے نشہ آور مہلک دوا فینٹینیل کی "وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار" کے طور درجہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا، فینٹینیل کے خلاف جنگ میں توجہ کا مرکز بحران کی بنیادی وجوہات ہونی چاہئیں۔
جیسا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکہ میں منشیات کے بڑے گروہوں کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی ہے تو انہوں نے پیر کو کہا کہ فینٹینائل کو جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کے زمرے میں شامل کر دیا گیا۔
شین بام نے نامہ نگاروں کو بتایا، "میں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے -- منشیات کے استعمال کی وجوہات پر توجہ دی جانی چاہیے، صرف یہ طریقہ کافی نہیں کہ اب کسی ایک نشہ آور شے کی وسیع تباہی کے مہلک ہتھیار کے طور پر درجہ بندی کر دی جائے"۔
فینٹینائل کی درجہ بندی کا تعلق ٹرمپ انتظامیہ کی مبینہ طور پر "منشیات کے دہشت گردوں" کے خلاف مہم سے ہے جس میں منشیات کی سمگلنگ کی مبینہ کشتیوں کو نشانہ بنانے والی فوجی مہم شامل ہے۔
خیال ہے کہ یہ بحری جہاز کوکین کی ترسیل کرتے ہیں نہ کہ کہیں زیادہ مہلک فینٹینیل جو کولمبیا یا وینزویلا سے بذریعہ کشتی کے بجائے بنیادی طور پر میکسیکو سے امریکہ میں سمگل کی جاتی ہے۔
یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے 2024 میں ملک میں 80,000 نشے کی زیادتی سے ہونے والی اموات کی اطلاع دی جن میں سے تقریباً 48,000 اموات کیمیائی طریقے سے تیار کردہ افیون مثلاً فینٹینیل کی وجہ سے ہوئیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ "غیر قانونی فینٹینیل منشیات کی نسبت کیمیائی ہتھیار کے زیادہ قریب ہے" اور اس کی تیاری اور تقسیم سے امریکی قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔