انسٹاگرام پر ایک سادہ سی وڈیو سے لے کر ای کامرس کی ایک چھوٹی سی سلطنت تک ... 18 سالہ امریکی نوجوان مائیکل سیٹرلی نے ایک منفرد اور تخلیقی پروڈکٹ کے ذریعے ایکسسریز کی صنعت کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
چند ماہ قبل سیٹرلی نے انسٹاگرام پر ایک مختصر وڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ اپنے بنائے ہوئے ایک خاص ہولڈر سے ڈاکٹر پیپر کا کین پیتا دکھائی دیتا ہے۔ اس ہولڈر کو اس نے “ٹیکٹیکل ری لوڈر” کا نام دیا۔ بظاہر یہ ایک عام مشروب ہولڈر لگتا ہے، مگر اس میں مزاح اور جدت کا ایک دل چسپ پہلو شامل ہے، یہ بات اس نے بزنس انسائیڈر کو بتائی۔ وڈیو میں وہ پہلا کین ختم کرتا ہے تو اچانک دوسرا کین سامنے آ جاتا ہے، وہ ہولڈر کو اس پر مارتا ہے، پہلا کین ایسے اچھل کر دور جاتا ہے جیسے کوئی گولا ہو، اور وہ دوسرے کین سے پینا شروع کر دیتا ہے۔ یہی منظر وڈیو کو وائرل کر گیا اور اسے انسٹاگرام پر 5 کروڑ سے زیادہ ویوز ملے۔
یہ وڈیو محض ایک وقتی کامیابی ثابت نہیں ہوئی بلکہ اسی نے سیٹرلی کے نئے کاروبار “کروز کپ” کی بنیاد رکھ دی، جو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات فروخت کرتا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں یہی مشروب ہولڈر ہے جو سوشل میڈیا پر خوب زیر بحث رہا۔ صرف گذشتہ نومبر میں اس نوجوان نے تین لاکھ ڈالر کی فروخت کی، جیسا کہ شاپی فائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے جن تک بزنس انسائیڈر کو رسائی حاصل ہوئی۔
سیٹرلی کا کاروباری سفر بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا۔ دس برس کی عمر میں وہ پڑوسیوں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر لان کی گھاس کاٹنے کی پیشکش کرتا تھا۔ اگرچہ اسے زیادہ کامیابی نہیں ملی، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ بعد میں وہ ای کامرس کی طرف آیا، پہلے ریت سے بچاؤ کا ایک پروڈکٹ بنایا، پھر جوتوں کے ایکسسریز کا برانڈ “سولفلی” لانچ کیا جسے انسٹاگرام پر خاصی مقبولیت ملی۔
اصل کامیابی اسے تھری ڈی پرنٹنگ کے خیال سے ملی، جو اس نے ہائی اسکول میں ڈیزائن کی کلاس کے دوران سیکھا۔ اس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نئے کاروباری افراد کے لیے مارکیٹ میں داخلے کو آسان بنا دیتی ہے، کیونکہ سو ڈالر میں تھری ڈی پرنٹر اور بیس ڈالر میں خام مال کی رول خریدی جا سکتی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیزائن بنانا بھی پہلے سے کہیں آسان ہو چکا ہے۔
مانگ میں اچانک اضافے کے بعد اس کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔ نیویارک میں اس کا گھر ایک چھوٹی فیکٹری بن گیا، جہاں تہہ خانے میں پرنٹرز، ڈائننگ روم میں پیکنگ اور بیڈروم میں فوٹوگرافی ہونے لگی۔ بعد میں اس نے ایک گودام منتقل ہو کر کام شروع کیا، جہاں اب 130 سے زیادہ تھری ڈی پرنٹرز موجود ہیں، اور وہ 2026 کے وسط تک فولاد سے بنی مصنوعات تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اپنے وائرل آئیڈیا کے بارے میں سیٹرلی کا کہنا ہے کہ اس نے مشہور کمپنی یٹی کی مصنوعات کو دیکھا اور سوچا کہ انہیں بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اس نے تیز رفتار ری لوڈنگ کی خصوصیت شامل کی، پھر صارفین کی رائے پر ڈبل ہولڈر بھی بنا لیا۔ اس کا اصول سادہ ہے: پہلے آئیڈیا بناؤ، پھر اسے بہتر کرتے جاؤ۔
اگرچہ بعض لوگوں نے تنقید کی کہ یہ ہولڈر مشروب کو ٹھنڈا نہیں رکھتا، مگر سیٹرلی پیچھے نہیں ہٹا۔ اس کے مطابق اگر آپ کے پاس کوئی خیال ہے تو اسے فوراً حقیقت میں بدلیں، پھر وقت کے ساتھ اسے نکھارتے رہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ پہلی کوشش میں کامیابی کی توقع نہ رکھیں، ناکامیاں آئیں گی، مگر مسلسل محنت کے بعد وہ لمحہ آ سکتا ہے جو پوری زندگی بدل دے۔