گیلین میکسویل جو ماضی میں جیفری ایپسٹین ساتھی رہ چکی ہیں، انھوں نے اپنی سزاؤں کو کالعدم قرار دینے اور جیل سے رہائی کے لیے ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ بات عدالتی ریکارڈ سے ظاہر ہوتی ہے۔ جیفری ایپسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی جیل میں اپنی کوٹھڑی سے مردہ حالت میں ملا تھا، جہاں وہ جنسی زیادتی کے الزامات پر مقدمے کا سامنا کرنے والا تھا۔
برطانوی خاتون شہری گیلین میکسویل اس وقت 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، جو انہیں کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ سمیت متعدد جرائم میں سزا سنائے جانے کے بعد دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ 63 سالہ گیلین کو 2022 میں اس الزام میں جیل بھیجا گیا کہ وہ ایپسٹین کے لیے کم عمر لڑکیوں کو لانے میں ملوث تھیں۔
گیلین نے مین ہٹن کی عدالت میں ایک ایسی قانونی درخواست دائر کی ہے جسے عام طور پر منظور کرانا نہایت مشکل سمجھا جاتا ہے۔ درخواست میں ان کا کہنا ہے کہ نئی دریافت ہونے والی شہادتیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ انہیں ایک غیر جانب دار اور کھلے ذہن کی حامل جیوری کے ذریعے منصفانہ مقدمہ نہیں ملا۔
عام طور پر عدالتیں اس نوعیت کی درخواستوں کو معمول کے مطابق مسترد کر دیتی ہیں اور اکثر یہ مجرموں کے لیے اپنی سزائیں ختم کرانے کا آخری راستہ ہوتی ہیں۔ گیلین نے یہ درخواست کسی وکیل کے ذریعے نہیں بلکہ خود دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جیوری کو استغاثہ کے وکلا اور حکومت کے درمیان مبینہ ملی بھگت، شواہد چھپانے اور استغاثہ کی بد انتظامی سے متعلق نئی معلومات کا علم ہوتا تو وہ انہیں قصوروار قرار نہ دیتی۔
اکتوبر میں امریکی سپریم کورٹ نے بھی گیلین کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیل کو بغیر کسی وجہ بتائے مسترد کر دیا تھا۔