آب و ہوا کی تبدیلی، قطبی ریچھ خود کو نئی حقیقت سے ہم آہنگ کرنے میں مگن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطبی ریچھ جو آرکٹک میں سمندری برف کے نظام سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، عالمی موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ گرم ہوتی ہوئی فضا میں زندہ رہنے کے لیے ارتقائی تبدیلیاں پیدا کرنے کے مرحلے میں ہو سکتے ہیں۔ یہ نتائج ایک مطالعے میں سامنے آئے ہیں جو حال ہی میں Nature Ecology & Evolution جریدے میں شائع ہوا۔

سائنسی ویب سائٹ ScienceAlert پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب آرکٹک خطہ زمین پر درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث سمندری برف کے رقبے میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے، جبکہ یہی برف قطبی ریچھ کے شکار، افزائشِ نسل اور بقا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

قطبی ریچھ میں کیا تبدیلی آئی ہے؟

تحقیقی سفر کے دوران سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے ہزاروں قطبی ریچھوں کے جینیاتی اور رویّاتی ڈیٹا کا مطالعہ کیا، اس کا قریبی رشتہ رکھنے والے بھورے ریچھوں کے ڈیٹا سے تقابلی جائزہ لیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ حالیہ جینیاتی فرق کے آثار سامنے آئے ہیں، جو میٹابولزم جلد کے افعال اور چکنائی کے میٹابولک ردِعمل سے متعلق حصّوں میں نمایاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں