الجزائر : بچوں نے ملک کی سب سے بڑی موبائل مارکیٹ لوٹ لی، وائرل وڈیو سے دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ دو روز کے دوران الجزائر میں سوشل میڈیا صارفین اس وقت شدید حیرت اور غصے کا شکار ہو گئے جب ملک کی سب سے بڑی موبائل فون کی عوامی مارکیٹ میں ڈکیتی کی وڈیوز سامنے آئیں۔ تاہم سب سے زیادہ چونکا دینے والا پہلو وہ وڈیو بنی جس میں کم عمر بچے اس واردات کا اعتراف کرتے ہوئے نہ صرف اس پر فخر کا اظہار کر رہے تھے بلکہ مستقبل میں اسے دہرانے کی کھلی دھمکی بھی دے رہے تھے۔ اس کے بعد سکیورٹی اداروں نے مداخلت کرتے ہوئے ان بچوں کو حراست میں لے لیا۔

وڈیو میں 10 سے 13 سال کی عمر کے بچے نظر آئے جنہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے دارالحکومت الجزائر کے مشرقی علاقے الحراش کے بلفور محلے میں واقع ملک کی سب سے بڑی موبائل مارکیٹ میں دکانوں کو لوٹا۔ بچوں نے فخر سے کہا کہ یہ کارروائی انہوں نے ہی انجام دی ہے اور جلد دوبارہ کریں گے۔ انہوں نے دکان داروں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہو سکے تو اپنی دکانوں میں رات گزار کر دکھائیں۔ بچوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار انہوں نے صرف 20 کروڑ سنتیم چرائے، جبکہ اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو وہ دو ارب سنتیم تک لوٹ لیتے۔ (1 جزائری دینار 100 سنتیم کے برابر ہوتا ہے)۔

اس وڈیو نے الجزائر میں شدید عوامی رد عمل کو جنم دیا اور سوشل میڈیا پر اس کی سخت مذمت کی گئی۔ سماجی ماہر عبدالحفیظ صندوقی نے اسے نہایت خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف چوری نہیں بلکہ اس پر فخر اور دوبارہ کرنے کی دھمکی ہے، جو معاشرتی اقدار کے بگاڑ کی علامت ہے۔ ان کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے ان بچوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا یا دکان داروں کو موردِ الزام ٹھہرانا مستقبل میں فکری طور پر معذور نسل پیدا کر سکتا ہے۔

ادھر وکیل فرید صابری نے وضاحت کی کہ الجزائری قانون میں کم عمر افراد کی فوجداری ذمہ داری کے حوالے سے واضح تقسیم موجود ہے۔ 13 سال سے کم عمر بچوں پر اصلاحی و حفاظتی اقدامات لاگو ہوتے ہیں، جبکہ 13 سے 18 سال کی عمر کے افراد کو یا تو اصلاحی تدابیر یا کم شدہ سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ چوری کے جرم میں عام طور پر ایک سے پانچ سال قید اور جرمانہ مقرر ہے، جبکہ سنگین حالات میں سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں