دو سعودی بہنیں جنھوں نے 50 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ریاض کو 'وال اسٹریٹ' سے جوڑ دیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مال و دولت کی دنیا میں ایسے خاندان بہت کم ہیں جو عاجزی اور سرمایہ کاری کے میدان میں غلبے کو ایک ساتھ برقرار رکھ سکیں، لیکن دو بہنوں، لبنیٰ اور حذام علیان نے یہ کام غیر معمولی مہارت سے انجام دیا ہے۔ انہوں نے صرف خاندانی دولت ہی وراثت میں حاصل نہیں کی، بلکہ اسے ایک ایسی عالمی سرمایہ کاری کی سلطنت میں بدل دیا ہے جو سعودی عرب سے لے کر دنیا کے اہم ترین مالیاتی مراکز بشمول "وال اسٹریٹ" تک پھیلی ہوئی ہے۔

آج "علیان گروپ" کی دولت کا تخمینہ 50 ارب ڈالر سے زائد لگایا جاتا ہے، جبکہ امریکی مالیاتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ یہ رقم 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس قدر اثر و رسوخ کے باوجود یہ گروپ میڈیا کی چکا چوند سے دور رہتا ہے اور کسی "نجی ساورن ویلتھ فنڈ" کی طرح خاموشی اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ اپنے معاملات چلاتا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، علیان گروپ کے پاس 13 ارب ڈالر مالیت کا امریکی اسٹاک پورٹ فولیو ہے، جس میں بلیک راک ، جے پی مورگن (JPMorgan)، مائیکروسافٹ ، ایمیزون اور الفابیٹ (گوگل) جیسی بڑی کمپنیوں میں حصص شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مین ہٹن، لندن اور دبئی میں ریئل اسٹیٹ، فکسڈ انکم اور نجی حصص (Private Equity) میں بھی ان کی بھاری سرمایہ کاری موجود ہے۔

سعودی سرزمین پر یہ گروپ مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں سرگرم ہے، جن میں "کوکا کولا" کی بوٹلنگ سے لے کر "برگر کنگ" ریستورانوں کی فرنچائز چلانا شامل ہے۔ مزید برآں، یہ گروپ تیل کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والا ایک اہم کھلاڑی ہے، جو اسے مقامی معیشت کا ایک کلیدی ستون بناتا ہے۔

علیان خاندان کی کامیابی کی داستان 1947 میں شروع ہوئی، جب گروپ کے بانی سلیمان علیان نے تیل کا ایک ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے اپنا گھر 8 ہزار ڈالر میں گروی رکھ دیا۔ یوں آرامکو کے ایک عام ملازم سے دنیا کے طاقتور ترین سرمایہ کار خاندان کے بانی بننے تک کا سفر شروع ہوا۔

سال2002 میں سلیمان علیان کے انتقال کے بعد لبنیٰ اور حذام نے کاروبار سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لبنیٰ مشرق وسطیٰ کے آپریشنز کی سربراہ بنیں جبکہ حذام نے "Olayan America" کی ذمہ داری سنبھالی۔ دونوں بہنوں نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور آج وہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری کی قیادت کر رہی ہیں اور بڑی عالمی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ ہیں۔

"کریڈٹ سوئس" (Credit Suisse) کے حالیہ بحران میں بڑے نقصانات کے باوجود، اس گروپ نے کسی سراسیمگی یا افراتفری کے بغیر اپنا کام جاری رکھا۔ یہ ان کے بہترین ادارہ جاتی نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے جو خاندانی کاروباروں میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

آج لبنیٰ اور حذام علیان عالمی بینکوں کے سربراہوں کے لیے سعودی مارکیٹ کو سمجھنے کے حوالے سے معتبر ترین مشیر سمجھی جاتی ہیں۔ سعودی معیشت جس کی مالیت 13 کھرب ڈالر ہے، سرمایہ کاروں کے لیے مستقبل کے نئے دروازے کھول رہی ہے اور علیان بہنیں اس اعتماد کی علامت بن کر ابھری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں