صرف ٹرمپ ہی پوتبن کو امن معاہدے پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: نیٹو

روٹے نے اس بات کی تصدیق کی کہ "ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کے حوالے سے اپنی وابستگی کا واضح اظہار کیا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے اندازوں کے مطابق ہنگامی صورتحال میں نیٹو اتحاد امریکہ پر بھروسہ کر سکتا ہے اور یہ بھروسہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر ہی وہ واحد شخص ہیں جو اپنے روسی ہم منصب پوتین کو یوکرین کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

جرمن اخبار "بيلد آم زونتاج" کو دیے گئے بیانات میں روٹے نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے اپنی وابستگی کا واضح اظہار کیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی صاف طور پر واضح کر دیا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کریں اور ہم اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ روٹے نے وضاحت کی کہ یورپی ممالک یوکرین کی حمایت کے لیے ’’ خواہش مندوں کے اتحاد ‘‘ کے ذریعے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور اتحاد کے مشرقی حصے اور بالٹک خطے کی حفاظت بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایٹمی اور روایتی، دونوں لحاظ سے یورپ میں شامل رہے گا اور یورپ سے کسی بھی انخلاء کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہو رہی۔

روٹے نے یوکرین پر روس کی تقریباً چار سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس معاملے میں مکمل طور پر مصروف ہیں اور ان کی توجہ اس جنگ کو ختم کرنے پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ ہی وہ واحد شخص تھے جو روسی صدر ولادیمیر پوتین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوئے اور وہی آخر کار پوتین کو امن معاہدے تک پہنچنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ روٹے کا کہنا تھا کہ میں اس پر ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں