برطانوی جیل میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے فورم 'فلسطین ایکشن پرزنر' کے توسط سے ایک فلسطینی قیدی کے خاتون کے اہلخانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جیل میں 29 سالہ خاتون قیدی کی بھوک ہڑتال کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
29 سالہ فلسطینی خاتون قیدی اسرائیلی جیل میں پچھلے 44 دنوں سے بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہے جبکہ وہ جیل میں پچھلے 13 ماہ سے قید ہے۔
ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اگست 2024 میں اسرائیلی اسلحہ ساز ادارے میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔
خاتون ان آٹھ فلسطینی قیدیوں میں میں سے ہیں جنہوں نے ان دنوں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے اور جو اسرائیل میں برطانوی کمپنی ایل بلٹ سسٹمز میں پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے حراست میں ہیں۔
بھوک ہڑتالی خاتون کی ہمشیرہ رحمہ نے کہا کہ ان کی بہن اتنی لاغر ہو چکی ہے کہ وہ نماز کے لیے بھی اب کھڑی نہیں ہو سکتی۔ اس کے سر میں درد رہتا ہے اور نقل و حرکت بھی آسان نہیں رہی۔ اسے ڈاکٹروں نے پہلے ہی ہدایت کی تھی کہ اگر اس نے بھوک ہڑتالی سلسلہ جاری رکھا تو زندہ نہیں رہ سکے گی۔
رحمہ نے یہ بات چیت 'سکائی نیوز' سے کی ہے۔
رحمہ نے کہا میری بہن کی عمر 29 سال ہے۔ اسے ایک سال سے زیادہ عرصے سے ریمانڈ پر جیل میں رکھا گیا ہے اور اگلے سال اپریل تک اس کے مقدمے کی سماعت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جبکہ اس کی ضمانت دینے سے عدالت انکار کر چکی ہے۔
آٹھوں بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ دینے والی برطانوی کمپنیوں کو بند کیا جائے۔ وہ لندن میں قائم 'فلسطین ایکشن' کے نام سے تنظیم پر عائد کردہ پابندی کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اپنی ضمانت کے لیے کوشاں ہیں۔
خیال رہے وہ فلسطین ایکشن سے تعلق رکھنے والے محض چند ہڑتال کرنے والے لوگوں میں شامل نہیں ہیں بلکہ آموگب کو برطانیہ میں شاہی ایئرفورس کے اڈے ہر گھسنے کی کوشش پر اسی سال کے شروع میں حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے بھی 50 دن تک بھوک ہڑتال کی ہے۔ بعد ازاں انہیں پچھلے ہفتے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔
جیل میں گب کو شروع میں وہیل چیئر دینے سے انکار کر دیا گیا تھا اور اس کے بغیر وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھے۔ وہیل چیئر نہ ملنے پر ان کی ڈاکٹروں سے طے شدہ ملاقات نہ ہو سکی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ گب کو جیل میں وٹامنز کی فراہمی سے بھی انکار کر دیا گیا تھا۔
قیدیوں کے حق میں مہم چلانے والے گروپ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے کوئی مثبت و فوری مداخلت نہ کی تو ان کی زندگیوں کو خطرہ ہوگا۔ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے کہ ان کی زندگیوں سے ان کو جانتے بوجھتے نظر انداز کیا جا رہا ہے اور قیدیوں کے مطالبات کو قبول نہیں کیا جا رہا۔
یہ ریاستی قید میں ہیں۔ اس لیے اگر انہیں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یہ حکومت کی شعوری غفلت کا نتیجہ ہوگا اور انہیں سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے دی گئی قید کی وجہ سے ہوگا۔
گب کے ایک رشتہ دار نے اخبار 'دی انڈیپینڈنٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ آموگب اس وقت کومہ کی حالت میں ہے یا انہیں ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے۔
میں ان کا عزیز ہوں لیکن میری تمام تر کوششوں کے باجود پچھلے 57 گھنٹوں سے حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں اس پر پریشان ہوں کہ جیل میں تھیامین نامی ادویات موجود ہیں اور مزید یہ کہ گب کی اس مسلسل حالت کی وجہ سے اسے دماغی طور پر بھی نقصان کا خطرہ ہے۔
ڈاکٹر جیمز سمتھ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو علاج کی سہولت دینے پر ںہت تنقید ہوئی ہے۔ ڈاکٹر جیمز سمتھ ایمرجنسی فزیشن ہیں اور یونیورسٹی کالج آف لندن میں لیکچرر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتالی قیدی مر رہے ہیں اور انہیں خصوصی طبی توجہ اور علاج کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں تقریباً 900 طبی ماہرین اور پروفیشنلز نے برطانیہ کے حکومتی وزراء کو لکھا ہے اور وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھوک ہڑتالیوں کو علاج کی سہولت دی جائے۔
لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کاربائن نے 'انسٹاگرام' پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ گب سے جیل میں ملاقات کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 2 نومبر تک 7 بھوک ہڑتالیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہیں اس وقت ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جب پہلے بھوک ہڑتالی نے خوراک لینے سے انکار کر دیا تھا۔
یاد رہے جان کنک اور عمر خالد نامی بھوک ہڑتالیوں نے طبی وجوہ کی بنیاد پر بعد ازاں بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔
ایک اور بھوک ہڑتالی قیدی کامران احمد نے گزشتہ ہفتے 'سنڈے ٹائمز' سے بات کرتے ہوئے کہا اس عظیم مقصد کے راستے میں موت آنا قابل قدر ہے۔ کامران نے مزید بتایا میرے سینے میں درد رہتا ہے۔ وہ وقت بھی آیا جب میرے خون میں شوگر لیول انتہائی کم ہوگیا اور نرس نے کہا کہ اگر کچھ نہ کھایا تو نیند میں جانے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھ سکوں گا۔
انہوں نے مزید کہا میرے سامنے وہ عظیم مقصد ہے کہ شاید ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو روک سکتے ہیں اور ان کی پریشانیوں کو کم کر سکتے ہیں۔ میں مرنے کے بعد ملنے والے انعام کے مقابلے میں اپنی جان کو درپیش خطرات کو بہت کم سمجھتا ہوں۔
خیال رہے برطانوی قانون کے مطابق مقدمے کی سماعت نہ ہونے تک قیدیوں کو ریمانڈ پر ایک وقت تک ہی جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاکہ جیل میں زیادہ دیر تک قید نہ کیا جا سکے۔ تاہم فلسطینی قیدیوں کے معاملے میں ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔
برطانوی وزیر برائے جیل خانہ جات لارڈ ٹمپسن نے فلسطینی اسیران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ان قیدیوں پر سنگین الزامات عائد ہیں۔ جن میں چوری و نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔ ریمانڈ کا فیصلہ جج کرتے ہیں جبکہ مؤکلین کی طرف سے وکلاء عدالتوں میں نمائندگی کر سکتے ہیں۔